021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لے پالک بچی سے پردہ لازم ہوگا یا نہیں؟
75561جائز و ناجائزامور کا بیانپردے کے احکام

سوال

ایک شادی شدہ جوڑے نے ایک بچی کو گود لیا، اور اس کو دودھ نہیں پلایا؛ کیونکہ دس سال بعد اس کی واپسی کی شرط لگائی گئی ہے۔ اب عرصہ مکمل ہونے پر فریقین خاموش ہیں۔ پوچھنا یہ تھا کہ بچی کے بالغ ہونے کے بعد اس والد کے لیے جس نے اس کو گود لیا تھا، پردہ وغیرہ کا کیا حکم ہے؟ اور اس جوڑے کے بیٹوں سے وہ لڑکی پردہ کرے گی یا نہیں؟ کیا واپسی کی شرط کے بغیر بھی دودھ پلائے بغیر اس طرح کسی لڑکی کی کفالت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

o

کوئی بچہ یا بچی صرف پالنے کے لیے بطورِ لے پالک لینا، دینا جائز ہے، چاہے واپسی کی شرط لگائی جائے یا نہ لگائی جائے، لیکن صرف گود لینے کی وجہ سے وہ بچہ یا بچی پالنے والے کی حقیقی اولاد نہیں بنتی، اور نسب، حقِ پرورش، اس کے نکاح کا اختیار اور میراث وغیرہ احکام شرعا تبدیل نہیں ہوتے۔ لے پالک بچے کا نسب اصل والدین سے ہی ثابت ہوتا ہے، اس کی پرورش کا بنیادی حق، اس کے نکاح کا اختیار،  اس کا مورِث ہونا اور اس کا وارث ہونا،  تمام شرعی احکام کا تعلق اس کے اصل ماں باپ سے ہوتا ہے، نہ کہ پالنے والے مرد اور عورت سے؛ کیونکہ یہ احکامات کسی انسان کے تبدیل کرنے سے تبدیل نہیں ہوسکتے۔

چونکہ پردہ بھی ایک شرعی حکم ہے جو گود لینے سے نہیں بدلتا؛ اس لیے صورتِ مسئولہ میں پرورش کرنے والا شخص اور اس کے بیٹے اس بچی کے لیے نامحرم ہیں، جن سے پردہ کرنا لازم ہوگا۔ البتہ اگر لے پالک بچے یا بچی کو مدتِ رضاعت کے اندر اندر دودھ پلایا جائے تو پھر رضاعی رشتہ قائم ہونے کی وجہ سے دودھ پلانے والی عورت، اس کے شوہر اور اولاد سے اس بچے اور بچی کا پردہ کرنا لازم نہیں ہوگا۔  

حوالہ جات

القرآن الکریم، [الأحزاب: 4]:
{وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ (4)} {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [ 5].
مسند أحمد (42/ 435):
حدثنا عبد الرزاق قال أخبرنا ابن جريج قال أخبرنا ابن شهاب أخبرني عروة بن الزبير عن عائشة أن أبا حذيفة تبنى سالما وهو مولى لامرأة من الأنصار كما تبنى النبي صلى الله عليه وسلم زيدا وكان من تبنى رجلا في الجاهلية دعاه الناس ابنه وورث من ميراثه حتى أنزل الله عز وجل { ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم } فردوا إلى آبائهم فمن لم يعلم له أب فمولى وأخ في الدين فجاءت سهلة فقالت يا رسول الله كنا نرى سالما ولدا يأوي معي ومع أبي حذيفة ويراني فضلا وقد أنزل الله عز وجل فيهم ما قد علمت فقال أرضعيه خمس رضعات فكان بمنزلة ولده من الرضاعة.
المبسوط للسرخسي (4/ 366):
المراد بقوله تعالى: {من أصلابكم}[النساء: 23] بيان إباحة حليلة الابن من التبني؛ فإن التبني انتسخ بقوله تعالى: {ادعوهم لآبائهم}[الأحزاب: 5]، وكان النبي صلى الله عليه وسلم تبنى زيد بن حارثة ثم تزوج زينب بعد ما طلقها زيد، فطعن المشركون وقالوا: إنه تزوج حليلة ابنه، وفيه نزل قوله تعالى: {ما كان محمد أبا أحد من رجالكم}[الأحزاب: 40]، فهذا التقييد هنا لدفع طعن المشركين.
الهداية (1/ 224):
ولبن الفحل يتعلق به التحريم وهو أن ترضع المرأة صبية فتحرم هذه الصبية على زوجها وعلى آبائه وأبنائه ويصير الزوج الذي نزل لها منه اللبن أبا للمرضعة ………لنا ما روينا، والحرمة بالنسب من الجانبين فكذا بالرضاع، وقال عليه الصلاة والسلام لعائشة رضي الله عنها ليلج عليك أفلح فإنه عمك من الرضاعة، ولأنه سبب لنزول اللبن منها فيضاف إليه في موضع الحرمة احتياطا.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

20/جمادی الآخرۃ /1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔