021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زیرتعمیرسوسائٹی میں نمازجمعہ کی ادائیگی کاحکم
75779نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

سوال یہ تھاکہ گوادرگالف سٹی میں ایک جامع مسجدبنائی گئی ہے،گوادرگالف سٹی ایک زیرتعمیرہاؤسنگ سوسائٹی ہے،جہاں پرایک کیمپ بنایاگیاہے،جس میں تعمیرات کےشعبےسےمنسلک دوسو( 200 )کےقریب ملازمین گوادرگالف سٹی کی سائٹ پررہائش پذیر ہیں،اس کےساتھ ہی 3.5 کلو میٹرپرموضع پلیری گاؤں آباد ہے،جس کی آبادی تقریباًدوسوگھروں پرمشتمل ہے،جہاں ضروریات زندگی،کھانےپینےکی اشیاءاور کلینک موجودہیں،لیکن ایک مکمل ہسپتال موجودنہیں ہے،آس پاس کئی اورچھوٹےگاؤں بھی آبادہیں،جہاں مساجدتوموجودہیں لیکن وہاں نماز جمعہ اورنمازعیدکااہتمام نہیں ہوتاہے،جس کی وجہ سےوہاں کےبہت کم لوگ اپنےعلاقےسےساٹھ(60)کلومیٹردورگوادرنمازجمعہ اورنمازعیدین کااہتمام کرنےجاتےہیں،پھرگوادر گالف سٹی نےاپنی سوسائٹی میں وہاں کےلوگوں کےلیےایک خوبصورت مسجدتعمیرکی۔اگرآس پاس کے گاؤں اوراطراف کی دس(10)کلومیٹرکی آبادی ملائی جائے،توتقریباًتین سےچارہزارکی آبادی بنےگی،اوران لوگوں کےلئےنمازجمعہ کی ادائیگی آسان ہوجائیگی۔

لہٰذایہ رہنمائی فرمائیں کہ کیاان تمام ترچیزوں کومدنظررکھتےہوئےگوادرگالف سٹی کی"جامع مسجداحمدبلال" میں نمازجمعہ کی ادائیگی شریعت کےاعتبارسےجائز ہے؟

(تنقیح:سائٹ سے34 سے35 کلومیٹرایک جوینی شہرآباد ہے،اور60 کلومیٹرفاصلےپرگوادرشہرآباد ہے)

o

شرعاًکسی جگہ نمازجمعہ کی ادائیگی کےلیےضروری ہےکہ(1)وہ جگہ شہریااس کامضافاتی علاقوں میں واقع ہو(2)یاکسی بڑےقصبےمیں واقع ہو۔

شرعاًشہراوربڑاقصبہ ایسی جگہ کوکہاجاتاہےجہاں گلی کوچے،محلے،روزمرہ ضروریات کی خریداری کےلیے بازار،علاج ومعالجہ کےلیے ہسپتال،ڈاکخانہ،نزاعات(جھگڑے)وغیرہ کےفیصلےکےلیےقاضی،پنجائیت یاتھانے وغیرہ کا نظام موجودہو۔

سوال میں مذکورتفصیل کی روشنی میں بظاہریہ بات معلوم ہورہی ہےکہ مذکورہ زیرتعمیرسوسائٹی شہر اورشہرکےمضافات سےدورایک نئی سوسائٹی ہے،اوراردگردقریب میں مختلف گاؤں آبادہیں،جن پربڑےقصبہ کاشرعاًاطلاق نہیں ہوسکتاہے۔

لہٰذامذکورہ زیرتعمیرسوسائٹی میں شرعاًنمازجمعہ کی ادائیگی اس وقت تک جائزنہیں ہے،جب تک اس میں شہریاقصبہ کی شرائط نہ پائی جائیں،یعنی سوسائٹی میں اتنی آبادی ہوجائےکہ شہرسابن جائےاوراکثرضروریات زندگی کااہتمام ہوجائے،اس کےبعد اس میں نمازجمعہ جائزہوگی۔

تاہم بہتریہ ہےکہ مذکورہ سوسائٹی کےقریب،مقیم مستندمفتیان کرام سےبھی اس مسئلےسےمتعلق استفتاءلیا جائے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 138):
وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 259):
أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه۔۔۔۔وأما تفسير توابع المصر فقد اختلفوا فيها روي عن أبي يوسف أن المعتبر فيه سماع النداء إن كان موضعا يسمع فيه النداء من المصر فهو من توابع المصر وإلا فلا، وقال الشافعي إذا كان في القرية أقل م ن أربعين فعليهم دخول المصر إذا سمعوا النداء وروى ابن سماعة عن أبي يوسف كل قرية متصلة بربض المصر فهي من توابعه وإن لم تكن متصلة بالربض فليست من توابع المصر، وقال بعضهم: ما كان خارجا عن عمران المصر فليس من توابعه، وقال بعضهم: المعتبر فيه قدر ميل وهو ثلاثة فراسخ، وقال بعضهم: إن كان قدر ميل أو ميلين فهو من توابع المصر وإلا فلا، وبعضهم قدره بستة أميال، ومالك قدره بثلاثة أميال، وعن أبي يوسف أنها تجب في ثلاثة فراسخ، وعن الحسن البصري أنها تجب في أربعة فراسخ، وقال بعضهم: إن أمكنه أن يحضر الجمعة ويبيت بأهله من غير تكلف تجب عليه الجمعة وإلا فلا وهذا حسن، ويتصل بهذا إقامة الجمعة في أيام الموسم بمنى.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 152):
وفي حد المصر أقوال كثيرة اختاروا منها قولين: أحدهما ما في المختصر ثانيهما ما عزوه لأبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث قال في البدائع، وهو الأصح وتبعه الشارح، وهو أخص مما في المختصر، وفي المجتبى وعن أبي يوسف أنه ما إذا اجتمعوا في أكبر مساجدهم للصلوات الخمس لم يسعهم، وعليه فتوى أكثر الفقهاء ۔

محمدعمربن حسین احمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

 4رجب المرجب 1443ھ

n

مجیب

محمد عمر ولد حسین احمد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔