021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندگی میں بیٹوں کو ہبہ کی گئی دکانوں کا حکم
14511.43ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

والدنے رہائشی مکان بیٹوں کو دے دیا اور بیٹوں کو قبضہ بھی دیدیا ۔

بعد میں وہ مکان متوفی کے بیٹوں اور ان کی اولاد کے لئے تنگ پڑگیا،چونکہ اس مکان کا محل وقوع کچھ ایسا تھا کہ اگر چار بھائیوں میں تقسیم کیا جاتا تو اس کے استعمال کی کوئی ممکنہ صورت نہیں بنتی تھی کہ ایک یا ایک سے زیادہ بھائی اپنا حصہ الگ کرکے کسی باہر شخص کو بیچ دیتے اور نہ ہی کسی ایک بھائی کی اتنی مالی گنجائش تھی کہ وہ پورا مکان خرید لیتا،لہذا والد کی وفات سے تقریبا چودہ سال بعد چاروں بھائیوں نے باہمی مشورہ اور رضامندی سے اس مکان کو فروخت کرکے قیمت کو چار برابر حصوں میں تقسیم کردیا۔

تنقیح :سائل کے بقول یہ مکان قابل تقسیم نہیں تھا،نیز والد نے بیٹوں کو ہبہ تو کردیا تھا،لیکن ہبہ کرنے کے بعد وفات تک خود بھی اس میں رہائش پذیر رہے،چونکہ ان کے پاس متبادل کوئی اور جگہ نہیں تھی۔

o

ہبہ کے مکمل اور تام ہونے کے لئے ایک شرط یہ بھی ہے کہ جو چیز ہبہ کی جائے اسے ہبہ کرنے والا اپنی مملوکہ اشیاء سے فارغ کرکے اس شخص کے حوالے کردے جسے ہبہ کیا گیا ہو،چونکہ مذکورہ صورت میں ہبہ کرنے کے بعد والد نے اس مکان کو فارغ کرکے بیٹوں کے حوالے نہیں کیا تھا،بلکہ وفات تک خود بھی اس میں رہائش پذیر رہے،اس لئے یہ ہبہ تام نہیں ہوا اوروالد کی وفات کے بعد اس مکان میں تمام ورثہ کا حق تھا۔

لیکن اس کی وجہ سے ساری جائیداد کو از سر نو تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں،بلکہ صرف اس مکان کو بیچنے کے نتیجے میں جو قیمت وصول ہوئی تھی اس میں دیگر ورثہ کا جو حق بنتا ہے وہ ان کے حوالے کردیا جائے۔

حوالہ جات

"الدر المختار "(5/ 690):
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط لأن كلا منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به لأن شغله بغير ملك واهبه لا يمنع تمامها كرهن وصدقة لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

10/رجب1443ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔