| 79585 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
سوال یہ ہے کہ سال مکمل ہونے پرآخری تاریخ میں اگر مال نصاب سے کم پڑ جائے تو کیا اس صورت میں زکوة کی تاریخ بدل جائے گی یا وہی باقی رہے گی؟ ہمارے علاقے میں ایک مفتی صاحب کا کہنا یہ ہے کہ نصاب ختم ہونے سے زکوة کی تاریخ بدل جائے گی، دوسرسے مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ زکوة واجب نہیں ہو گی، البتہ زکوة کی تاریخ باقی رہے گی، اس میں صحیح موقف کس کا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اصول یہ لکھا ہے کہ سال کی پہلی تاریخ اور آخری تاریخ میں نصاب کا اعتبار کیا جائے گا، لہذا اگر کوئی شخص ان دونوں تاریخوں میں آدمی صاحبِ نصاب ہو تو اس پر زکوة واجب ہو گی، بشرطیکہ سال کے دوران مکمل مال ختم نہ ہوا ہو اور اگر ان میں سے کسی ایک تاریخ میں بھی مال نصاب سے کم ہوا تو زکوة کی ادائیگی واجب نہیں رہے گی، لہذا جس شخص کے پاس سال کی ابتداء میں نصاب کے برابر مال موجود تھا اور سال کی انتہاء یعنی آخری دن مال نصاب سے کم پڑ گیا تو اس پر زکوة واجب نہیں ہوگی، نیز اس کی وجوبِ زکوة کی تاریخ بھی بدل جائے گی، اس کے بعدجس تاریخ کو وہ صاحبِ نصاب ہو گا وہی تاریخ زکوة کی ادائیگی کے لیے متعین ہو گی۔
خلاصہ یہ کہ سال کے درمیان نصاب مکمل طور پر ختم ہونے سے تاریخ بدلتی ہے، صرف کم ہونے سے نہیں بدلتی، جبکہ سال کے آخر میں مال مکمل ختم ہو جائےیا نصاب کی مقدار سے کم ہوجائے، بہر حال تاریخ تبدیل ہو جاتی ہے۔
لہذا یہ بات درست نہیں کہ زکوة کی سابقہ تاریخ ہی برقراررہےگی، کیونکہ سال کی آخری تاریخ میں صاحبِ نصاب نہ ہونے سے جب زکوة اس کے ذمہ سے ساقط ہو گئی تو پہلے والی تاریخ بھی کالعدم ہو گئی اور جب تک نصاب پورا نہیں ہو گا اس وقت تک اس کے ذمہ قربانی اور صدقہٴ فطر بھی واجب نہیں ہو گا اور اس کے لیے زکوة لینا بھی جائز ہو گا۔ نیز اگر اس کی یہ حالت کئی سال تک بدستور جاری رہتی ہے تو وہ مسلسل فقیر ہی شمار ہو گا، لہذا ایسی صورت میں سابقہ تاریخ کو برقرار رکھنے کا کوئی معنی نہیں۔کیونکہ اب کچھ علم نہیں کہ وہ کب صاحبِ نصاب ہو گا؟
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 103) دار احياء التراث العربي، بيروت:
وإذا كان النصاب كاملا في طرفي الحول فنقصانه فيما بين ذلك لا يسقط الزكاة " لأنه يشق اعتبار الكمال في أثنائه أما لا بد منه في ابتدائه للانعقاد وتحقق الغنى وفي انتهائه للوجوب ولا كذلك فيما بين ذلك لأنه حالة البقاء.
الاختيار لتعليل المختار (1/ 102) دار الكتب العلمية،بيروت:
(وتجب في المستفاد المجانس ويزكيه مع الأصل) وهو ما يستفيده بالهبة أو الإرث أو الوصية لقوله - عليه الصلاة والسلام -: «اعلموا أن من السنة شهرا تؤدون فيه الزكاة، فما حدث بعد ذلك فلا زكاة فيه حتى يجيء رأس السنة» وهذا يدل على أن وقت وجوب الأصل والحادث واحد، وهو مجيء رأس السنة، وهذا راجح على ما يروى: «لا زكاة في مال حتى يحول عليه الحول» لأنه عام، وما رويناه خاص في المستفاد، أو يحمل على ما رواه على غير المجانس عملا بالحديثين، ولأن في اشتراط الحول لكل مستفاد مشقة وعناء، فإن المستفادات قد تكثر فيعسر عليه مراقبة ابتداء الحول وانتهائه لكل مستفاد والحول للتيسير، وصار كالأولاد والأرباح.
تبيين الحقائق مع حاشية الشلبي (1/ 280) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:
(ونقصان النصاب في الحول لا يضر إن كمل في طرفيه) أي إذا كان النصاب كاملا في ابتداء الحول وانتهائه فنقصانه فيما بين ذلك لا يسقط الزكاة وقال زفر - رحمه الله - يسقطها لأن حولان الحول على النصاب كاملا شرط الوجوب بالنص ولم يوجد وقال الشافعي في السائمة مثل قول زفر وفي عروض التجارة يعتبر النصاب في آخر الحول خاصة لأن النصاب فيه باعتبار القيمة فيشق على صاحبه تقويمه في كل ساعة لأن القيمة باعتبار رغبات الناس فيعسر عليه معرفة رغبتهم في كل ساعة فسقط اعتباره دفعا للحرج وفي آخره لا بد منه لأنه وقت الوجوب والزكاة لا تجب إلا في النصاب بالنص ولنا أن الحول لا ينعقد إلا على النصاب ولا تجب الزكاة إلا في النصاب ولا بد منه فيهما ويسقط الكمال فيما بين ذلك للحرج لأنه قلما يبقى المال حولا على حاله ونظيره اليمين حيث يشترط فيها الملك حالة الانعقاد وحالة نزول الجزاء وفيما بين ذلك لا يشترط إلا أنه لا بد من بقاء شيء من النصاب الذي انعقد عليه الحول ليضم المستفاد إليه لأن هلاك الكل يبطل انعقاد الحول إذ لا يمكن اعتباره بدون المال.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
27/رجب المرجب 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


