021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تخارج میں طے شدہ چیزیں وقت پر نہ دینے کی تلافی کیسے ہوگی؟
76067اقرار اور صلح کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

میرے  والد  صاحب  کا  انتقال  2004ء  میں  ہوا  ،  میراث  کو  تقسیم  نہیں  کیا  گیا،  اس  وقت  میت  کے  ورثہ  میں  4  بیٹے،  ایک  بیٹی  اور  زوجہ  تھیں  اور  اب  بھی  سب  الحمدللہ  حیات  ہیں،  مشترک  میراث   کو  ہی  استعمال  کیا  جاتا  رہا  یہاں  تک  کے  2008ء  میں  میت  کی  بیٹی  (یعنی  میری  بہن)  کی  شادی  کا  وقت  آگیا۔اس  وقت  میں  کراچی  کے  ایک  مدرسے  میں  زیر  تعلیم  تھا  اور  وہاں  کے  دارالافتاء  کے  صدر  مفتی  صاحب  سے  پوچھ  کر  بہن  کے  ساتھ  تخارج  کا  معاملہ  طے  کیا  گیا  جس  کے  مطابق  بہن  میراث  میں  اپنا  حصہ  چھوڑ  دیں  گی،  لیکن  اس  کے  بدلے  انہیں  ان  کی  مرضی  کا  جہیز  دیا  جائے  گا۔  سب  راضی  ہو  گئے  اور  میں  بھی  کراچی  میں  تھاتو  ہر  معاملے  کو  بذات  خود  دیکھ  نہ  سکا۔

  اس  سال  بہن  سے  بات    بات  میں  یہ  حقیقت  سامنے  آئی  کہ       اس  وقت  بہن  نے جو  لسٹ  دی  تھی  اس  میں  سے  بعض  چیزیں  یا  تو  دی  ہی  نہیں  گئیں  یا  اس  معیار  سے  کم  کی  دی  گئیں  جو  بہن  کو  مطلوب  تھی۔  جن  کی  تفصیل  درج  ذیل  ہے:

  1. 35000  کا چنیوٹی   صوفہ  سیٹ  مانگا  گیا  لیکن  19000  والا  صوفہ  دیا  گیا۔
  2.  چنیوٹی  ڈائننگ  سیٹ  مانگا  گیا  جو  دیا  ہی  نہیں  گیا  اس  وقت  اس  کی  قیمت  25000  تھی۔
  3. کارپیٹ،  فینسی  ڈنر  سیٹ،  فینسی  رضائی،مائیکرو  ویو،  ٹی  وی،  ٹی  وی  ٹرالی،    ایک  عدد  سوٹ  بھی  مانگا  گیا  جو  نہیں  دیا  گیا  جن  کی  قیمت  اس  وقت  بالترتیب  2500،    9000،  5000،  5000،  5000 ،  2000،  اور  2500  تھی۔
  4. دوسے  اڑھائی  تولہ  سونے  کا  سیٹ  بھی  مانگا  گیا  جونہیں  دیا  گیا۔

اب  سوال  یہ  ہے  کہ  اس  کا  کیا  حل  کیا  جائے؟  نیز  اگر  اس  کی  تلافی  کی  جائےتو  کیا  ان  چیزوں  کی  اس  وقت  کی  قیمت  ادا  کی  جائے  گی،  یا  آج  کی  قیمت؟  یا  وہ  چیزیں  ہی  لے  کر  دینا  ہوں  گی؟نیز  جو  بھی  قیمت  طے  ہو  کیا  بہن  اس  میں  خوشی  سے  کمی  کر  سکتی  ہیں  یا  اس  کمی  کا  کوئی  اعتبار  نہیں  شرعا؟    

o

واضح رہے کہ تخارج، صلح کی ایک صورت ہے اور بیع یعنی خرید و فروخت کے حکم میں ہے۔ تخارج کا معاملہ اس وقت مکمل ہوتا ہے جب اپنا حصہ چھوڑنے والا وارث کہے کہ میں نے اپنا حصہ فلاں مال کے بدلے میں چھوڑ دیا، اور دوسرے ورثا اس مال کے بدلے اس کا حصہ لینے پر راضی ہوجائیں۔ اگر ورثا کے درمیان اس طرح باقاعدہ ایجاب و قبول نہ ہو، صرف وعدہ ہو تو اس سے تخارج مکمل نہیں ہوگا، اور اس وارث کا حصۂ میراث ختم نہیں ہوگا، وہ بدستور میراث میں شریک رہے گا۔

اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ:

اگر صورتِ مسئولہ میں آپ کی بہن نے مذکورہ چیزوں کے بدلے اپنا حصۂ میراث چھوڑا نہیں تھا، بلکہ مذکورہ چیزیں دینے کی شرط پر اپنا حصہ چھوڑنے کا صرف وعدہ کیا تھا، جیسا کہ سوال کے ان الفاظ "بہن  کے  ساتھ  تخارج  کا  معاملہ  طے  کیا  گیا  جس  کے  مطابق  بہن  میراث  میں  اپنا  حصہ  چھوڑ  دیں  گی،  لیکن  اس  کے  بدلے  انہیں  ان  کی  مرضی  کا  جہیز  دیا  جائے  گا" سے معلوم ہوتا ہے تو چونکہ بھائیوں نے اس کو مطلوبہ چیزیں نہیں دیں اور شرط پوری نہیں کی؛ اس لیے اس صورت میں تخارج کا معاملہ مکمل نہ ہونے کی وجہ سے بہن کا حصۂ میراث بدستور قائم ہوگا جو اب اسے دینا لازم ہوگا۔

اور اگر ان کے درمیان تخارج کا صرف وعدہ نہیں ہوا تھا، بلکہ باقاعدہ ایجاب و قبول ہوا تھا، اور بہن نے کہہ دیا تھا کہ میں نے ان چیزوں کے بدلے اپنا حصۂ میراث چھوڑ دیا ہے، تو پھر تخارج کا معاملہ تام ہوگیا تھا، اور آپ سب ورثا پر لازم تھا کہ بہن کو اس کی مطلوبہ چیزیں اسی وقت دیدیتے۔ لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا، جس کی وجہ سے آپ سب ورثا گناہ گار ہوئے ہیں، اب آپ سب پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑا کر توبہ و استغفار کریں، اپنی بہن سے معافی مانگیں اور ان کا حق ادا کردیں۔ ان کا حق ادا کرنے کی صورت یہ ہے کہ انہوں نے 35000 کا صوفہ مانگا تھا اور آپ نے انہیں 19000 ہزار کا صوفہ دیا تو اب انہیں صوفہ کے بقیہ 16000 روپیہ دیدیں۔ صوفہ کے علاوہ اسے اس کی مطلوبہ چیزیں بالکل نہیں دی گئیں، اس لیے اب  آپ سب پر لازم ہے کہ اسے دو سے اڑھائی تولہ سونا اور سوال میں ذکر کردہ دوسری چیزیں اسی معیار کی لے کر دیں جس معیار کی اس نے مانگی تھی، البتہ اگر جانبین ان چیزوں کے بجائے قیمت کی ادائیگی پر راضی ہو تو قیمت دینا بھی درست ہے، اور قیمت ادا کرنے کی صورت میں ادائیگی کے وقت کی قیمت معتبر ہوگی، 2008ء کی قیمت کا اعتبار نہیں ہوگا۔  

حوالہ جات

۔

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

  20/رجب /1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔