03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جعلی سند (سرٹیفكیٹ) پر ملازمت کا حصول
76294جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ایك شخص ملازمت كے لیے جعلی سند (سرٹیفكیٹ) بنوا لیتا ہے اور اس پر وہ ملازمت حاصل بھی كر لیتا ہے، آیا ملازمت كے حصول كے لیے جعلی سند بنوانا جائزہے یا نہیں؟ نیز اس كی تنخواہ كا كیا حكم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جعلی یامحض نقل سے پاس کردہ سرٹیفکیٹ کے ذریعہ ملازمت حاصل کرنادھوکے، جھوٹی گواہی کے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے،البتہ اس کے باوجود  اگر کوئی جعلی ڈگری سے ملازمت  حاصل کر لے اور اس کو باقی رکھے تو اس کی تنخواہ کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ  متعلقہ شعبہ ومضمون میں قابلیت  واستعداد رکھتا ہے تو شرعی حدود کی پابندی کے ساتھ  ملازمت  کو باقی رکھناجائز ہے اور تنخواہ بھی حلال ہوگی،(احسن الفتاوی:ج۸،ص۱۹۸)

حوالہ جات

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا } [النساء: 58]   

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَى أَنْ تَعْدِلُوا وَإِنْ تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا } [النساء: 135]

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

یکم شعبان۱۴۴۳ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب