03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
انگریزی بال بنوانا یا فوجی كٹنگ كروانا
76282جائز و ناجائزامور کا بیانناخن ،مونچھیں اور ،سر کے بال کاٹنے وغیرہ کا بیان

سوال

انگریزی بال بنوانا یا فوجی كٹنگ كروانا شرعًا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سر کے بالوں کے بارے میں اصولی طور پر یہ بات طے شدہ ہے کہ  بال تمام سر کے برابر ہونا ضروری ہیں خواہ کاٹے یا مونڈے۔

بال رکھنے کی جائز صورتیں تین ہیں:

مسنون طریقہ:تمام سر کے بال بطور پٹےبرابر رکھنا سنت ہے، جس کی تین صورتیں ہیں:

۱۔وفرہ یعنی کانوں کی لو تک رکھنا۔

۲۔لمہ یعنی کانوں اور کندھوں کے درمیان تک رکھنا۔

۳۔ جمہ یعنی کندھوں  تک رکھنا۔

مستحب طریقہ:پورے سر کے بال مونڈنا اس کے سنیت میں اختلاف ہے،البتہ صحیح یہ ہے کہ مستحب ہے۔

 مباح طریقہ: پورے سر کے بال برابر کاٹنا اس کی صرف گنجائش ہے۔

ناجائزاور مکروہ تحریمی صورتیں:جہاں سر کے بعض بال مونڈے جائیں اور بعض حصہ کے بال باقی رکھیں جائیں یا صرف چھوٹے کئے جائیں یا بعض بال کم کاٹے جائیں اور بعض بال زیادہ کاٹیں جائیں تو یہ ناجائز ہے۔(احسن الفتاوی: ج۸،ص۷۹،فتاوی رحمیمیۃ:ج۱۰،ص۱۱۴)

 اسی طرح ایسے بال رکھنا جوکفار یا فساق کا شعار ہوں۔ اس میں ممانعت کی وجہ تشبہ بالکفار ہے اور اس میں ہر زمانے کے کفار وفساق کے شعار کا اعتبار ہوگا۔(احسن الفتاوی:ج۸،ص۷۹)واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

حوالہ جات

۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

یکم شعبان۱۴۴۳ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب