03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اولادکوہبہ/Giftکرناشرعاجائزہے
76253ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

میری شادی خانہ آبادی 2001ءمیں ہوئی ،میرےسسرصاحب کامطالبہ تھاکہ ایک تہائی حصہ مکان میری بیٹی کےمہرمیں دیاجائےگا،چنانچہ میرےوالدصاحب نےاپنےمملوکہ مکان میں سےایک تہائی حصہ باقاعدہ تحریری طورپرگواہان کی موجودگی میں اسٹامپ پیپرپرمیرےنام ہبہ کیا،اورپھربوقت نکاح یہی مکان کاایک تہائی حصہ مہرکے خانےمیں درج کیاگیااوراسی پہ ایجاب وقبول ہوااورپھرنکاح کےوقت سےمکان کےاس 1/3پر میری زوجہ مسماۃ کوثر کاقبضہ ہے،بعدازاں گھریلوجھگڑےکی بناءپرحصول مہرکی خاطر میری زوجہ نےایک بارڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج مانسہرہ کی عدالت میں مقدمہ بھی دائرکیا،عدالت نےزوجہ ام کایہ حق تسلیم کرتےہوئےمحکمہ مال کومکان کےایک تہائی حصہ کےزوجہ ام کےنام باقاعدہ انتقال کرنےکاحکم صادرفرمایا۔

2006ءمیں میرےوالدصاحب فوت ہوگئے،واضح رہےکہ میرےوالدمرحوم کی وفات کےبعدعدالت نےایک تہائی حصہ مکان انتقال کرنےکاحکم دیاتھا،چنانچہ مکان کایہ ایک تہائی حصہ اب میری بیوی کےنام ہےاوراس کاقبضہ ہے اس ہبہ شدہ ایک تہائی حصہ مکان کےعلاوہ بقیہ مکان میں سےسائل نےجب دیگرورثاءسےشرعی وراثت کے مطابق اپناحصہ طلب کیاتوانہوں نےبقیہ مکان میں سےسائل کووراثت کےمطابق حصہ دینےسےانکارکردیاہےاور ان کا موقف یہ ہےکہ والدصاحب مرحوم نےاپنی زندگی میں جوایک تہائی حصہ مکان تمہیں اورتمہاری بیوی کودیاتھا ، بس صرف اسی ایک تہائی حصہ پرتمہاراحق ہےبقیہ مکان میں ایک فٹ جگہ بھی تمہیں وراثت میں نہیں ملےگا۔

جواب طلب امورمندرج ذیل ہیں :

:1کیایہ ہبہ ازروئےقرآن وسنت درست تھا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کےوالدکاایک تہائی حصہ مکان آپ کوہبہ کرکے آپ کی بیوی کومہرمیں دیناچونکہ دیگرورثاکونقصان یامحروم کرنےکی غرض سےنہیں تھااس لئےیہ ہبہ کرناازروئےشرع جائزاوردرست تھا۔

حوالہ جات

«الهداية في شرح بداية المبتدي» (3/ 222):

الهبة ‌عقد ‌مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام: "تهادوا تحابوا" وعلى ذلك انعقد الإجماع "وتصح بالإيجاب والقبول والقبض" أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد، والعقد ينعقد بالإيجاب، والقبول، والقبض لا بد منه لثبوت الملك.

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (4/ 374):

ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى ‌لا ‌يثبت ‌الملك ‌للموهوب له قبل القبض

«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص562):

وفي الخانية: ‌لا ‌بأس ‌بتفضيل ‌بعض الاولاد في المحبة لانها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الاضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى

عبدالقدوس

دارالافتاء،جامعۃ الرشیدکراچی

۲شعبان ۱۴۴۳

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالقدوس بن محمد حنیف

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب