021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یوٹیوب کے چینل میں شرکت کا حکم
76586جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

سوال:چھوٹے بھائی نے چینل بنایا۔اب اس میں کلام اپلوڈ کرنے تھے تو چھوٹے بھائی نے اسٹوڈیو والے کو پیسے دیے تو بڑے بھائی نے کچھ کلام خود لکھ کر ریکارڈ کروائے اور کچھ دوسرے شعراء کے لکھے ہوئے کلام ریکارڈ کروائے۔ اس کے بعد وہ کلام چینل پر اپلوڈ کر دیے گئے۔اس دوران چھوٹے بھائی کے پاس پیسے ختم ہوگئے تو کچھ کلام بڑے بھائی نے اپنے ذاتی پیسوں سے ریکارڈ کروائے جن کی مجموعی مالیت تقریبا 30 ہزار بنتی ہے۔ ان دونوں بھائیوں نے یوں معاہدہ کیا تھا کہ کلام پر خرچہ چھوٹا بھائی کرے گا اور جو ارننگ اور آمدن ہوگی وہ نصف نصف ہوگی۔ جب چینل کی مطلوبہ شرائط پوری ہوگئیں تو چینل مونیٹائز کرایا گیا۔جس کے لیے دونوں بھائیوں نے کوشش کی لیکن زیادہ تر کوشش اور کام بڑے بھائی کے متعلق تھے اس لیے کہ چینل بڑے بھائی کے نام تھا۔ اب چینل مونیٹائز ہوگیا تو ان کی اس ماہ 87 ہزار روپے ارننگ ہوئی ہے۔

 اب سوال یہ ہے کہ اس میں خرچے سے مراد کون سے خرچے ہوں گے اور نفع کس کو کہا جائے گا؟ اور شرعی لحاظ سے یہ معاملہ کتاب البیوع کے کس باب سے تعلق رکھتا ہے؟ یہ تمام تر تفصیل دیکھ لیجیے گا۔دونوں بھائیوں کا اس طرح معاملہ کرنا درست ہے یا نہیں ؟ اور چینل پر جو خرچہ ہوا اس پر زکوۃ لازم ہوگی یا نہیں؟ یہ بھی واضح رہے کہ یوٹیوب کی مونیٹائزیشن ہونے کے بعد اس کی آمدن کا مدار اس بات پہ ہوتا ہے کہ چینل جتنے زیادہ لوگ دیکھیں گے تو ویوز اور۔چینل دیکھنے کے وقت کے حساب سے آمدن ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ ویوز میں اضافہ کرنے کے لیے نیا کلام ضرور لانا ہوتا ہے۔ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس چینل پر چلنے والے اشتہارات کا تعلق حلال کھانے پینے کی اشیاء یا ایزی پیسہ ایپ وغیرہ سے ہے۔

 

o

خرچےسےمرادبظاہرشروع میں چینل خریدنےاورمونیٹائزکرنےپرکیےجانےوالےاخراجات ہوں گے،باقی  یوٹیوب چینلز کے خرچےاورنفع سےمتعلق مزید تفصیل آپ متعلقہ فیلڈکےماہرین یوٹیوبرز سےمعلوم کرسکتےہیں۔

رہی بات کہ یہ کتاب البیو ع کےکس باب سےتعلق رکھتاہے،توشروع میں  گوگل ایڈسینس کےساتھ باقاعدہ ایک معاہدہ کےتحت آپ چینل بناتےہیں تومعاہدہ کی وجہ سےگوگل کےاصول وضوابط پرعمل کرنالازم ہوگا۔

اس کےبعد آپ کےچینل پرجواشتہارات چلتےہیں، گوگل ایڈسینس سےمعاہدہ کےتحت گوگل کی طرف سےان اشتہارات کی اجرت کاکچھ فیصدحصہ چینل بنانے والے کوبھی دیاجاتاہے، اس اعتبارسےیہ اجارہ اورکرایہ داری کامعاملہ ہوتاہے۔اس میں کرایہ داری  کےشرعی اصول وضوابط کاخیال رکھناضروری ہوگا۔

پھرجب آپ دونوں بھائیوں کےدرمیان یہ معاہدا ہواکہ کلام پرخرچہ ایک بھائی کرےگا،اورنفع دونوں کےدرمیان مشترک ہوگاتویہ  شرکت کامعاملہ ہوگا،اس میں شرکت کےشرعی اصولوں کےمطابق شرکت کرناضروری ہوگا۔ مثلا شرکت میں ایک بنیادی شرط یہ ہےکہ نفع کی تقسیم فیصدی طورپرہو،متعین رقم کی صورت میں نفع کی تقسیم کی جائےتوشرکت فاسد ہوجائےگی۔

اس کےمروجہ طریقہ کارمیں یہ دیکھاجائےگاکہ اگرکسی ایک شریک کی طرف سےباقاعدہ خرچہ کیاجاتاہےاوردوسرےکی طرف سےصرف عمل ہوتو یہ صورت مضاربہ کی ہوگی یعنی ایک کاعمل اوردوسرےکامال۔

اوراگرپیسےایک کی طرف سےلگائےجائیں اورکام دونوں پرتقسیم ہوتوپھریہ مضاربہ +شرکت کی صورت ہوگی۔اس صورت میں جس شریک کی طرف سےپیسےبھی ہوں اورکام بھی  تونفع میں اس کاتناسب زیادہ رکھاجاسکتاہے۔

اوراگرکسی ایک شریک کی طرف سےخرچہ نہیں کیاجاتا،یارقم نہیں لگائی جاتی توپھریہ شرکت الاعمال کی صورت ہوگی ،اس صورت میں دونوں بھائیوں پرلازم ہوگاکہ وہ کسی حدتک عمل یعنی کام کی ذمہ داری قبول کریں،اگرچہ ایک کی طرف سے عمل کم ہودوسری کی طرف سےزیادہ ۔

چاہےمضاربہ کی صورت ہویامضاربہ +شرکت کی  یاپھرشرکت الاعمال کی تینوں صورتوں میں نفع کی تقسیم کسی بھی پرسنٹیج سےطے کی جاسکتی ہے۔

اشتہارات چلانےکےجوپیسےملتےہیں وہی ارننگ اورنفع ہوتاہے،اس  کےلیےضروری ہےکہ ناجائزکاموں کےاشتہارات نہ ہوں،اسی طرح موسیقی،گانوں یافحش تصاویرپرمشتمل نہ ہوں۔

چینل پراپلوڈکیاجانےوالامواد غیرشرعی نہ ہواورجائزاشتہارات پرمشتمل اشتہارات چلائےجائیں اوراس سےمتعلق کسی سودی بینک یاکمپنی سےمعاہدہ وغیرہ نہ کیاجائےتواس طرح کےچینل میں شرکت کامعاملہ کیاجاسکتاہے۔

واضح رہےکہ  یوٹیوب کمپنی کی طرف سےشریعت کےمطابق جوازکی شرائط کی پابندی اکثروبیشترنہیں ہوپاتی اوروقفےوقفےسے غیرشرعی اشتہارات بھی چلائےجاتےہیں،ایسی صورت حال کےپیش نظر بہترتوبہرحال یہ ہےکہ اشتہارات کی اجازت دینےاوراس کی کمائی سےمکمل اجتناب کیاجائے،تاہم اگرغیرشرعی اشتہارات چلانےپریوٹیوب انتظامیہ کوآگاہ کیاجائےاورانہیں اس عمل سےروکاجاتارہے،نیزایک محتاط اندازےکےمطابق ناجائزاشتہارات کی مدمیں آنےوالی کمائی کوصدقہ کیاجائےتواس سےباقی کمائی کوناجائزنہیں قراردیاجائےگا۔

حوالہ جات

"رد المحتار 23 / 348:
( وكون الربح بينهما شائعا ) فلو عين قدرا فسدت ( وكون نصيب كل منهما معلوما ) عند العقد ۔
ومن شروطها : كون نصيب المضارب من الربح حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت ، وفي الجلالية كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها ، وإلا بطل الشرط وصح العقد اعتبارا بالوكالة۔
 "تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي" 5/54 ط)
" (قوله في المتن ويكون الربح بينهما مشاعا) قال الأتقاني وذلك؛ لأن المقصود من عقد المضاربة هو الشركة في الربح فإذا اشترط لأحدهما دراهم مسماة كالمائة ونحوها تفسد المضاربة؛ لأن شرط ذلك يفضي إلى قطع الشركة؛ لأنه ربما لا يكون الربح إلا ذلك القدر فلا يبقى للآخر شيء من الربح قال شمس الأئمة البيهقي في الكفاية شرطه أن يكون قدرا معلوما مشاعا من كل الربح مثل الثلث والربع فإذا شرط لأحدهما مائة من الربح مثلا أو مائة مع الثلث أو الثلث إلا مائة والباقي للآخر لم تجز المضاربة؛ لأنه يؤدي إلى قطع الشركة في الربح لجواز أن لا يربح إلا ذلك القدر"
قال اللہ تعالی فی سورۃ المائدۃ : آیت 2:
 وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (2)
"تفسير ابن كثير"2 /  12:
وقوله: { وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان } يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات، وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى، وينهاهم عن التناصر على الباطل.والتعاون على المآثم والمحارم۔
"فقہ البیوع "2 /  1032:
امااذاکان الحلال مخلوطا بالحرام دون تمییز احدھمابالآخر فانہ لاعبرۃ بالغلبۃ فی ھذہ الحالۃ فی مذھب الحنفیۃ ،بل یحل الانتفاع من المخلوط بقدرالحلال سواء أکان الحلال قلیلاام کثیرا۔
"فقہ البیوع "2 /  1038:
 الصورۃ الرابعۃ :ان المال مرکب من الحلال والحرام ولایعرف ان الحلال ممیز من الحرام اومخلوط غیر ممیز وان کان مخلوطا فکم حصۃ الحلال فیہ ۔
والاولی فی ھذہ الصورۃ التنزہ ولکن یجوزللآخذ  ان یاٗخذ  منہ مالہ ھبۃ اوشراء ،لان الاصل الاباحۃ وینبغی ان یقیدذالک باٗن یغلب علی ظن الآخذ ان الحلال فیہ بقدر مایأخذہ اواکثرمنہ۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

25/شعبان   1443 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔