| 76539 | طلاق کے احکام | وہ اسباب جن کی وجہ سے نکاح فسخ کروانا جائز ہے |
سوال
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ ایک شخص نےاپنی دو(عاقل بالغ)بچیوں کانکاح شرعی اپنےرشتہ داروں میں کردیا،اوررخصتی نہیں ہوئی ،جبکہ نکاح کو تقریبا دس سال کاعرصہ گزرچکاہے،اوربوقت نکاح سےہی بچیوں کی دلی رضامندی شامل نہیں اوراب بچیوں کےوالدصاحب کابھی انتقال ہوچکاہے۔
اب صورت حال یہ ہےکہ دونوں بچیوں کےدونوں شوہر قتل کےجرم میں فراراوراشتہاری ہیں تقریبا دس سال سے،بچیاں کسی بھی صورت ان کےنکاح میں نہیں رہنا چاہتی،اوربچیوں کےورثاء بھی بچیوں کادوسری جگہ نکاح کرناچاہتےہیں۔
اسی وجہ سےبچیوں کوعدالت کی طرف سےطلاق دلوادی گئی ہے،اوران کےخاوندوں کونوٹس بھجوادیاگیاہے،کیونکہ وہ تومجرم ہیں اورعدالت حاضرنہیں ہوئے،اس لیےان کےوالدنےکہاکہ اگرآپ اپنی بچیوں کانکاح آگےکرناچاہتےہیں توکردیں ،آپ کی مرضی ہے،جیسےکرناچاہیں آپ کردیں(مقتول لڑکیوں کابھائی ہے)
شرعی نقطہ نظر سےراہنمائی فرمادیں کہ کیا اس صورت حال میں دونوں بچیوں کانکاح آگےکرسکتےہیں ؟
تنقیح:سائل نےوضاحت کی ہےکہ بچیوں کی شادی کی وقت بچیوں کی طرف سےواضح طورپرانکار نہیں کیا گیاتھا۔
اورعدالت سےخلع کی ڈگری لی گئی تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں چونکہ نکاح کےوقت بچیوں کی طرف سےواضح طورپر رشتہ سےانکارنہیں کیاگیا،اس لیےنکاح شرعا منعقدہوگیاتھا۔
اوربعدمیں شوہروں کی عدم موجودگی میں خلع کی ڈگری لی گئی ہے،جوکہ شرعامعتبرنہیں،کیونکہ خلع میں شوہرکی رضامندی شرعاضروری ہوتی ہے،اس لیےموجودہ صورت میں علیحدگی کی ایک صورت یہ ہوسکتی ہےکہ چونکہ دونوں کے شوہر عرصہ دس بارہ سال سےغائب ہیں تومذکورہ دونوں لڑکیاں عدالت میں تنسیخ نکاح کادعوی دائرکریں اوردوگواہوں کی گواہیاں بھی دعوی کےساتھ پیش کریں( جویہ گواہی دیں گےکہ نکاح کےبعد شوہروں کی طرف سےواقعتانان نفقہ وغیرہ کاکوئی انتظام نہیں کیاگیا)ان گواہیوں کےثبوت کےساتھ یہ لڑکیاں عدالت میں پہلے اپنانکاح ثابت کریں،پھریہ ثابت کریں کہ اتنےعرصےسےان کےشوہرغائب ہیں اوران کےلیےنان ونفقہ اورسکنی کاکوئی انتظام بھی نہیں کیاگیا،اورشوہروں کی عدم موجودگی میں لڑکیوں کواپنی عفت وعصمت کابھی خطرہ ہےاس بناءپرپہلےمسلم حاکم خودشوہروں کو تلاش کرنےکی کوشش کرے،نہ ملےتوشوہروں کے غائب”غیرمفقود “ہونےکی وجہ سےشرعی طریقہ کارکےمطابق فسخ نکاح کاحکم دے،عدالت کی طرف سےیہ فسخ نکاح شرعابھی معتبر ہوگا،اس کےبعد یہ دونوں لڑکیاں عدت گزارکردوسری جگہ نکاح کرسکتی ہیں۔
حوالہ جات
"رد المحتار "13 / 132:
وعليه يحمل ما في فتاوى قارئ الهداية حيث سأل عمن غاب زوجها ولم يترك لها نفقة ۔
فأجاب : إذا أقامت بينة على ذلك وطلبت فسخ النكاح من قاض يراه ففسخ نفذ وهو قضاء على الغائب ، وفي نفاذ القضاء على الغائب روايتان عندنا ، فعلى القول بنفاذه يسوغ للحنفي أن يزوجها من الغير بعد العدة۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
10/رمضان 1443 ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب |


