| 76568 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
میں نےاپنی بیوی کوغصہ میں یہ الفاظ کہےکہ "سدرہ میں تمہیں پہلی طلاق"اوراس کےبعدآگےکچھ نہیں کہا صرف ڈرانےکےلئےیہ الفاظ کہےاورنہ طلاق دیناچاہتاتھاورنہ جملہ مکمل کرتا۔لیکن میری بیوی کاکہناہےکہ آپ نے کہا"سدرہ میری طرف سےتمہیں پہلی طلاق"کیاطلاق واقع ہوگئی؟
کچھ سالوں کےبعدجھگڑےکےدوران میں نےقرآن شریف پرہاتھ رکھ کراوراپنےوالدکو دیکھ کرکہاکہ "ابواس کوچپ کروائیں ورنہ میں طلاق دے دوں گا"اس میں بھی نیت بیوی کوڈراکرچپ کروانےکی تھی اسی لئےکہا، جبکہ میری بیوی کاکہناہےکہ میں نےیہ کہا"ابواس کوچپ کروائیں ورنہ میں طلاق دےرہاہوں "
کیاطلاق واقع ہوگئی ہے؟۔وضاحت:ہم دونوں میں سےکسی کاکوئی گواہ بھی نہیں ہے
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پہلی دفعہ جب آپ نےکہاتھاکہ "سدرہ میں تمہیں پہلی طلاق "اوراس کےبعدآگےکچھ نہیں کہاتواس جملےسےطلاق واقع نہیں ہوئی،اس کےبعددوبارہ جب آپ نےکہا"ابواس کوچپ کروائیں ورنہ میں طلاق دےدوں گا" تواس میں بھی چونکہ آپ کا"ارادہ طلاق "کااظہار ہےاورطلاق دینا مقصودنہیں ہے،اورارادہ کرنےسےطلاق واقع نہیں ہوتی لہذاآپ کی بیوی پرطلاق واقع نہیں ہوئی ۔
البتہ اگرآپ کی بیوی کویہ یقین ہےکہ آپ نےیہ کہاتھاکہ "سدرہ میری طرف سےتمہیں پہلی طلاق "تواس صورت میں آپ کی بیوی اپنےآپ کو ایک طلاق شدہ سمجھےگی اوریہ طلاق رجعی ہوگی جوآپ کی طرف سےرجوع پائےجانےپر نکاح بحال رہےگاتاہم اگرآئندہ آپ نےدوطلاقیں دیں توآپ کی بیوی پرلازم ہوگاکہ آپ سےمکمل جدائی اختیارکرے کیونکہ اس کےحق میں تین طلاقیں پوری ہوجائینگی۔
حوالہ جات
«المحيط البرهاني في الفقه النعماني» (3/ 472):
فقال الزوج: طلاق مي كنم طلاق مي كتم طلاق مي كنم؟ أجاب وقال: بأنها تطلق ثلاثا؛ لأن قوله:
طلاق مي كنم للمحض للحال وهو تحقيق بخلاف قوله: كنم؛ لأنه تمحض للاستقبال وهو (291أ1) وعد، وبالعربية قوله: أطلق، لا يكون طلاقا في أنه دائر بين الحال والاستقبال فلم يكن تحقيقا مع الشك.
«تحفة الفقهاء» (2/ 182):
وإن كان لفظا لا يصلح للطلاق فإنه لا يقع به الطلاق وإن نوى لأن الطلاق يقع باللفظ لا بالنية كقوله اسقني واقعدي وأعرضت عن طلاقك وصفحت عن فراقك وتركت طلاقك وخليت سبيل طلاقك ونحو ذلك.
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 384):
قالت لزوجها من باتو نميباشم فقال الزوج مباش فقالت طلاق بدست تو است مرا طلاق كن فقال الزوج طلاق ميكنم طلاق ميكنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك.
«درر الحكام شرح غرر الأحكام» (1/ 361):
(وصدق في نية الوثاق ديانة) يعني إذا قال أنت طالق ونوى به الطلاق عن وثاق لم يصدق قضاء؛ لأنه خلاف الظاهر والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها لكن تعتبر نيته بينه وبين الله تعالى
عبدالقدوس
دارالافتاء،جامعۃ الرشیدکراچی
۱۳رمضان ۱۴۴۳
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالقدوس بن محمد حنیف | مفتیان | آفتاب احمد صاحب |


