03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چاربھائی اورایک بہن کےدرمیان تقسیم میراث
76565میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہماری والدہ کاانتقال 2019میں ہوچکاہےان کی ملکیت میں ایک عددمکان ہےجس کی وراثت کےحوالے سےراہنمائی درکارہے۔ہماری والدہ کی یہ وصیت ہےجوانہوں نےاپنی زندگی میں بھی زبانی صراحت کی تھی کہ جس طرح میری اولادکاحصہ لگےگا،بالکل اسی طرح ایک اضافی حصہ میرےلیےبھی لگایاجائےاوراس کاآدھاحصہ سب سےضرورت منداولادکودےدیاجائےاورآدھاصدقہ خیرات کردیاجائے۔اس کی تقسیم میں راہنمائی فرمادیجیے؟ہم چاربھائی اورایک بہن ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میت کےکل ترکہ( منقولہ وغیرمنقولہ) میں سےتجہیزوتکفین کاخرچ نکالنےکےبعد،اگران کےذمہ قرض وغیرہ مالی واجبات کی ادائیگی ہوتوانہیں اداکیاجائےگا،اس کےبعداگرمرحومہ نےکوئی جائزوصیت کی ہوتوباقی ماندہ ترکہ سےایک تہائی تک اسےپوراکیاجائےگا،پھرجوترکہ بچےگاوہ وورثاءمیں شرعی حصوں  کےمطابق تقسیم ہوگا۔

صورت مسئولہ میں میت کی وصیت پرایک تہائی کی حدتک عمل کیاجائےگااورمرحومہ کےورثاء کےحق میں وصیت معتبرنہیں ہے چنانچہ اضافی حصےکاجوآدھاحصہ فقراءکےلیےطےکیاگیاہے،اس وصیت پرعمل کرنالازم ہے اورمقررہ مقدارکےبقدرصدقہ کردیاجائے۔

رہاتقسیم میراث کامسئلہ توورثاءمیں چاربیٹےاورایک بیٹی شامل ہیں ،شریعت نےان میں سے ہرایک کاوراثتی حصہ الگ الگ مقررکیاہے، لہذامرحوم کےترکہ کےنوحصےبنائےجائیں گے،جن میں سےبیٹی  کوایک حصہ اداکرکےباقی آٹھ حصوں میں سےہرایک بیٹےکودودوحصےدیےجائیں گے۔فیصدکےاعتبارسےبیٹی کاحصہ11.1111%ہوگااورہر ایک بیٹےکاحصہ22.2222%ہوگا۔

 عددی اورفیصدی حصےکےمطابق مزید تفصیل  نیچےدیےگئےٹائیبل پرملاحظہ فرمائیں  :

نمبرشمار

نام ورثہ

عددی حصے

فیصدی حصے

1

بیٹی

1

11.1111%

2

بیٹا

2

22.2222%

3

بیٹا

2

22.2222%

4

بیٹا

2

22.2222%

5

بیٹا

2

22.2222%

 

مجموعہ

9

100%

حوالہ جات

قال اللہ تبارك وتعالي:

ﵟلِّلرِّجَالِ نَصِيبٞ مِّمَّا تَرَكَ ٱلۡوَٰلِدَانِ وَٱلۡأَقۡرَبُونَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٞ مِّمَّا تَرَكَ ٱلۡوَٰلِدَانِ وَٱلۡأَقۡرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنۡهُ أَوۡ كَثُرَۚ نَصِيبٗا مَّفۡرُوضٗا ٧ﵞ [النساء: 7] 

ﵟيُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ ﵞ [النساء: 11]  

﴿فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ﴾ [النساء: 12] 

«فتح القدير للكمال ابن الهمام وتكملته ط الحلبي» (10/ 456):

الزيادة على الثلث ‌لا ‌الوصية، حتى لو ادعى الوصية فيه لا تسمع دعواه .

«منحة السلوك في شرح تحفة الملوك» (ص437):

(أما العصبة بنفسه)۔۔۔وهم أربعة أصناف: جزء الميت) أي البنون، ثم بنوهم وإن سفلوا، (ثم أصل الميت) أي الأب، ثم الجد أب الأب وإن علا، (‌ثم ‌جزء ‌أبيه) ‌أي ‌الأخوة، ثم بنوهم وإن سفلوا (ثم جزء جده) أي الأعمام، ثم بنوهم وإن سفلوا

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 776):

ثم شرع في العصبة مع غيره فقال (ومع غيره الأخوات مع البنات) أو بنات الابن لقول الفرضيين اجعلوا الأخوات مع البنات عصبة

«سنن ابن ماجه» (2/ 906 ت عبد الباقي):

عن أنس بن مالك قال: إني لتحت ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم يسيل علي لعابها فسمعته يقول: «إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه، ألا لا وصية لوارث»

عبدالقدوس

دارالافتاء،جامعۃ الرشیدکراچی

۱۳رمضان۱۴۴۳

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالقدوس بن محمد حنیف

مفتیان

آفتاب احمد صاحب