| 76548 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
محترم مفتیانِ کرام!السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم جناب اقبال صاحب کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے۔ مرحوم نے سوگواران میں 1 اہلیہ، 2 سگے بھائی اور 2 سگی بہنیں چھوڑی ہیں۔ نیز مرحوم کی 1 سگی بہن کا انتقال مرحوم اقبال صاحب کے انتقال سے قبل ہوچکا تھا، مذکورہ بہن کے 2 بیٹے یعنی مرحوم کے 2 بھانجے بھی سوگواران میں شامل ہیں ۔
جناب اقبال صاحب مرحوم کی میراث کس طرح تقسیم ہوگی؟ ازروئے شریعت میراث کی تقسیم کے حوالے سے رہنمائی فرماکر مشکور فرمائیں۔جزاکم اللہ خیرا
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں مذکور ورثہ میں میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ مرحوم کی کل میراث کاچوتھائی حصہ بیوہ کوملےگا،باقی میراث مرحوم کےبہن بھائیوں میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ بھائیوں کوبہنوں کےمقابلےمیں دوگناحصہ ملےگا۔
عددی اعتبارسےمیراث کی تقسیم کی جائےتوکل میراث کے 8حصےکیےجائیں،چوتھائی حصہ یعنی 2حصےبیوہ کوملیں گے،باقی چھ حصےبہن بھائیوں میں تقسیم ہوں گے،ہربھائی کو دوحصےاورہربہن کو ایک حصہ دیاجائےگا۔
اوراگرفیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتوکل میراث کا 25فیصدبیوہ کوملےگا،دونوں بھائیوں میں سےہربھائی کو 25فیصداورباقی 25فیصددونوں بہنوں میں تقسیم ہوگایعنی ہربہن کو 12.5فیصد ملےگا۔
چونکہ مرحوم کی دوبہنیں زندہ ہیں اس لیےتیسری بہن کی اولاد یعنی بھانجے مرحوم کی میراث سےمحروم ہونگے۔
حوالہ جات
"سورۃ النساء" آیت 12:وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
14/رمضان 1443 ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب |


