| 76832 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
محترم مفتیان کرام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہم کل چار بھائی، ایک بہن اور والدہ اپنے والد صاحب کے ورثاء ہیں ۔قرآن و سنت کی روشنی میں راہنمائی کریں کہ والد صاحب کے ترکے میں ہمارا کتنا کتنا حصہ ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم کی وفات کے وقت ان کی ملکیت میں جتنا بھی چھوٹا اور بڑا سازو سامان تھا وہ سب کا سب ان کا ترکہ شمار ہوگا۔پھر اگر مرحوم کے ذمے کوئی بھی مالی حق واجب الاداء رہ گیا تھا تو اسے ادا کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو باقی بچے گا اس میں سے ان کے چاروں حیات بیٹوں میں سے ہر ایک کو 19.4444 فیصد،اور حیات بیٹی کو9.7222فیصد،جبکہ مرحوم کی بیوہ کو 12.50 فیصد حصہ ملے گا۔
حوالہ جات
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 233)
قال - رحمه الله - (وللزوجة نصفه) أي للزوجة نصف ما للزوج فيكون لها الربع، ومع الولد أو ولد الابن وإن سفل الثمن لقوله تعالى {ولهن الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم} [النساء: 12]
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11]
شیرعلی
دارالافتاء جامعۃ الرشید
16شوال1443 ہجری
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شیرعلی بن محمد یوسف | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


