03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سپلائی کردہ مال کا دوکاندار کے پاس گم ہوجانے کا حکم
76956خرید و فروخت کے احکامحقوق کی خریدوفروخت کے مسائل

سوال

محترم مفتیان کرام

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میں آئینے اور شیشے فروخت کرتا ہوں۔حال ہی میں ایک دوکاندار کو مال سپلائی کیا تھا۔دوکاندار نے مال کی کوالٹی اور قیمت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ قیمت زیادہ ہے ،جبکہ کچھ مال ٹھیک بھی نہیں،لہذا اپنا مال واپس اٹھالیں۔اس شکایت کا ازالہ کرنے کے لیے ہم نے قیمت کم کردی اور خراب مال واپس اٹھالیا اور ساتھ کہہ دیا کہ آپ  باقی مال کو  دو تین ماہ میں بیچنے کی کوشش کریں۔جب دو تین ماہ میں مال نہیں بکا تو دوکاندار (کے پاس کام کرنے والے شعیب نامی شخص نے جو کہ وہاں کے تمام امور دیکھنے والا اور  خرید و فروخت  کا معاملہ کرنے والا ہے) کئی بار کہا کہ مال واپس اٹھالو،لیکن ہم نے مال اس لیے نہیں اٹھایا کہ شاید مال بک جائے۔اسی دوران دوکان کے مالک نے شعیب کو نکال دیا اور تین یا چار ماہ بعد دوبارہ رکھ لیا۔واپس آنے کے بعد شعیب نے دوبارہ مال اٹھانے کو کہا۔جب ہم مال اٹھانے گئے تو مال کی مقدارکم تھی۔اب شعیب کہتا ہے کہ وہ غیر حاضر تھا اور جانے سے قبل مال اٹھانے کا کہہ چکا تھا،لہذا وہ ا س کمی کا ذمہ دار نہیں ہے،جبکہ ہمارا خیال یہ ہےکہ تمام تر  ڈیلنگ شعیب کے ذمے تھی ،لہذا وہ اس کا ذمہ دار ہے۔آپ شریعت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں کہ یہ کمی کس کے ذمے ہوگی؟

نوٹ:سوال میں ناکافی معلومات کی وجہ سے سائل سے فون پر بات کرنے کے بعد سوال کی مذکورہ بالا تفصیلات سامنے آئیں تھیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خرید و فروخت کا معاملہ مکمل ہوجانے اور خریدے گئے سامان پر قبضہ مل جانے کے بعد اس سامان کی ذمہ داری خریدار پر ہوتی ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں اگرصرف خریدار کی جانب سے سامان واپس اٹھانے اور معاملہ ختم کرنے کی درخواست کی جاتی رہی ،لیکن فروخت کنندہ حتمی طور پر معاملہ ختم کرکے سامان واپس لینے پر رضامند نہیں ہو،بلکہ وہ خریدار کو سامان آگے بیچنے کی ترغیب دیتا رہا تو خرید و فروخت کا عقد اپنے حال پر باقی رہ جانے کی وجہ سے ذمہ داری بھی خریدار پر باقی رہی اور اس دوران ہونے والا نقصان بھی اسی کے  ذمے رہا۔

باقی دوکان پر کام کرنے والا شخص چونکہ ملازم واجیر ہے،اصل خریدار تو دوکان کا مالک ہے۔لہذا اگر یہ سامان ملازم  کی تعدی اور لاپرواہی کی وجہ سے گم یا کم نہیں ہوا تویہ نقصان اصل مالک کے ذمےہوگا،ملازم سے اس کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔

حوالہ جات

فقہ البیوع: 782/ 2

فمذھب الحنفیۃ والشافعیۃ أن المبیع یبقی فی ضمان البائع الی أن یسلمہ إلی المشتری.وذلک  لأن الضمان عندھم إنما ینتقل من البائع إلی المشتری  بقض المشتری للمبیع  ،لا بمجرد العقد؛فلوھلک المبیع بعد قبض المشتری،ھلک من مال المشتری.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (9/ 129)

(ولا ضمان على الأجير الخاص فيما تلف في يده ولا ما تلف من عمله)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 70)

(ولا يضمن ما هلك في يده أو بعمله) كتخريق الثوب من دقه إلا إذا تعمد الفساد فيضمن كالمودع.

شیرعلی

دارالافتاء جامعۃ الرشید

22شوال1443 ہجری

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شیرعلی بن محمد یوسف

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب