021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مناسخہ کی ایک صورت کا حکم
77014میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

عرض یہ ہے کہ میرے والد مرحوم   ایک مکان  تھا  جو سیل ہوچکا ہے ،13600000 ایک کڑور چھتیس لاکھ میں ۔ ورثا میں ہم تین بھائی  ،تین بہنیں  اور  والدہ ہیں ۔والد کے انتقال کے کافی عرصہ بعد  ایک شادی شدہ بھائی کا   انتقال ہوا ،اس  کی  بیوہ  نے انتقال کے ایک سال کے بعد     دوسری جگہ شادی کرلی  ہے ، بھائی  کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ، بیوہ اور  والدہ  حیات ہے،لہذا آپ پہلے والد  مرحوم کی  وراثت  اس کے بعد  مرحوم  بھائی  کی وراثت  تقسیم  کرنے کا  طریقہ بتادیں ۔

o

مرحوم نے بوقت  انتقال   منقولہ  غیر منقولہ   جائداد ، نقدی  ، سونے چاندی   اور   چھوٹا بڑا  جوبھی سامان   اپنی  ملك میں چھوڑا  ہے  ،سب  مرحوم کاترکہ ہے ،  سب سے  پہلے  اس میں سےکفن دفن کامتوسط خرچہ  نکالاجائے ،  اس کے  بعد مرحوم کے ذمہ کسی   کا   قرض  ہوتو   وہ ادا  کیاجائے ، اسکے بعد  اگر مرحوم نے  كسی  غیر وارث كے حق میں کوئی  جائز  وصیت  کی ہو   تو تہائی مال کی حدتک  اس پر عمل کیاجائے ۔ اس کے بعدباقی  مال کو مساوی  72حصوں میں  تقسیم    کرکےمذکورہ  ورثا  کے درمیان  اس  طرح  تقسیم کیاجائے کہ بیوہ   کو 9حصے  اور  تینوں لڑکوں  میں سے ہر ایک کو   14 حصے اورتینوں لڑکیوں میں سے  ہر ایک  کو   7حصے  دیئے جائیں گے۔

اگروا لدمرحوم  کا  کل قابل  تقسیم  ترکہ  ایک کڑوڑ  36 لا کھ ہی  ہے تو  اس کی تقسیم  مندرجہ  طریقہ پر ہوگی۔

 مرحوم کی  بیوہ کاحصہ  =   1700000

 تینوں  لڑکوں میں سے  ہر ایک کا حصہ =   .4442644444

تینوں  لڑکیوں  میں سے  ہر ایک  کاحصہ  =    222  . 1322222

 آ پ کے مرحوم بھائی کی    میراث  کاحکم یہ ہے کہ مرحوم نے بوقت  انتقال   منقولہ  غیر منقولہ   جائداد ، نقدی  ، سونے چاندی   اور   چھوٹا بڑا  جوبھی سامان   اپنی  ملك میں چھوڑا  ہے  ، اس میں  اپنے والد مرحوم کے ترکے سے ملا ہوا  مال  شامل کریں ،یہ سب سب  مرحوم کاترکہ ہے ،  سب سے  پہلے  اس میں سےکفن دفن کامتوسط خرچہ  نکالاجائے ،  اس کے  بعد مرحوم کے ذمہ کسی   کا   قرض  ہوتو   وہ ادا  کیاجائے ، اسکے بعد  اگر مرحوم نے  كسی  غیر وارث كے حق میں کوئی  جائز  وصیت  کی ہو   تو تہائی مال کی حدتک  اس پر عمل کیاجائے ۔ اس کے بعدباقی  مال کو مساوی 120 حصوں  میں  تقسیم کرکے اس میں  سے  بیوہ  کو 15 حصے اور  مرحوم کی والدہ  کو  20 حصے  اور  مرحوم  کے دونوں لڑکوں میں سے  ہر ایک کو   34 حصے اور  لڑکی  17 حصے   دئے  جائیں  گے ۔

حوالہ جات

.....

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی  

یکم ذی  القعدہ   ١۴۴۳ھ

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔