| 77215 | قسم منت اور نذر کے احکام | متفرّق مسائل |
سوال
محترم مفتیان کرام
میں بطور سپاہی بلوچستان پولیس میں بھرتی ہوا ہوں۔ٹریننگ میں ہم سے یہ حلف لیا گیاتھا کہ "میں اللہ تعالی کو حاضر ناظر جان کر اقرار کرتا ہوں کہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وفادار رہوں گا اور قانون کی حکمرانی میرا اولین فرض منصبی ہوگا۔محکمہ پولیس میں اپنے فرائض ایمانداری اور وفاداری سے بجالاؤں گا۔شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کی خاطر ہرممکن قدم اٹھاؤں گا ،خواہ اس میں جان کا خطرہ ہو۔میں اپنے آفیسران کے ہر جائز حکم کی تعمیل کروں گا اور مجھے فرائض کی بجاآوری کے لیے جہاں بھی جانے کا حکم ملے گا،جاؤں گا۔اللہ تعالی میرا حامی وناصر ہو"۔حلف لیتے وقت ہم سینکڑوں کی تعداد میں تھے،حلف کے لیے ہم سب نے ہاتھ اٹھائے تھے۔ ایک بندے نے قرآن شریف اٹھایا اور دوسرے نے لاؤڈ اسپیکر میں حلف نامہ پڑھایا۔زیادہ آواز ہونے کی وجہ سے کسی نے کچھ پڑھا اور کسی نے کچھ کہا،کسی نے حلف نامہ کے الٹ پڑھا۔میں نے بھی کس طرح پڑھا ،اب یاد نہیں۔
ٹریننگ سے فراغت کےبعد معلوم ہوا کہ واقفیت اور پیسے نےمحکمے پر بہت اثر کیا ہے۔نہ آفیسر ،اپنی جگہ پر آفیسر رہا اور نہ ماتحت ،ماتحت رہا۔آفیسر اتنے دباؤ میں ہوتا ہے کہ وہ اپنےماتحت کو حکم نہیں دے سکتا کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ میرا حکم نہیں مانے گا،کیونکہ محکمہ سفارش اور پیسوں کا ہے۔بوٹ،وردی صحیح پہننے،بلٹ پروف جاکٹ اور ٹوپی نہ پہننے پر آفیسر تنبیہ اور اصلاح نہیں کرسکتا۔ بطور انچاچ یا ماتحت میرے ساتھ بھی یہ حالات پیش آتے ہیں۔ان حالات کی روشنی میں میری راہنمائی فرمائیے کہ :
- جس طرح ہم لوگوں نے حلف اٹھایا تو اس حلف کی کیا حیثیت ہے؟
- اگر میں قرآن کا کفارہ ادا کردوں اور وعدہ کروں کہ دوبارہ حلف نہیں اٹھاؤں گا تو کیا یہ ایسا ہے کہ گویا میں نے حلف اٹھایا ہی نہیں؟
- مجھے پروموشن اور ترقی کے لیے دوبارہ حلف اٹھانا پڑرہا تھا،میں نے وعدہ کیا کہ اگر پروموشن نہ بھی ملے تو کوئی بات نہیں لیکن اس بار حلف نہیں اٹھاؤں گا ۔اللہ جل جلالہ کے فضل سے میں حلف اٹھانے سے بچ گیا ،اگرچہ اس کے لیے مجھے جھاڑو لگانے ،بالٹی اٹھانے اور صفائی کے کام کرنے پڑے۔کیا اس طرح میری پہلی غلطی( یعنی پہلی بار حلف اٹھانا) وہ معاف ہوجائے گا؟
- کیا قرآن شریف اور قسم کا ایک ہی کفارہ ہے؟
نوٹ:سائل اور محکمہ پولیس کے دیگر افراد سے معلوم ہوا کہ مذکورہ بالا حلف نامے میں جو امور مذکور ہیں ، درحقیقت یہی ایک پولیس آفیسر کی ذمہ داریاں ہوا کرتی ہیں۔محکمہ پولیس کی جانب سےاگر ملازمت لیٹر جاری ہوتاہے تو ا س میں الگ سے ذمہ داریاں درج نہیں ہوتیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قسم منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قسم کے الفاظ زبان سے ادا کیے جائیں مثلا یوں کہا جائے کہ اللہ کی قسم، قرآن کی قسم وغیرہ۔اس طرح اگر قرآن کی قسم کھائی جائے تو قسم منعقد ہوجاتی ہے اور اسے پورا نہ کرنے کی صورت میں وہی کفارہ ادا کرنا ہوتا ہے جو عام قسم کا ہوتا ہے،لیکن اگر قرآن سامنے ہو اور مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کاصرف اقرار کیا جائے ،باقاعدہ قسم نہ کھائی جائے تو اس کی حیثیت وعدہ کی سی ہوگی ،اس سے قسم منعقد نہیں ہوگی اور نہ ہی اس کی وجہ سے کوئی کفارہ لازم آئے گا۔
اس اصول کی روشنی میں آپ کے سوالات کا جواب یہ ہے کہ آپ نے جو حلف اٹھایا چونکہ اس میں قسم کے الفاظ نہیں تھے ،لہذا اس پر قسم کے احکامات جاری نہیں ہوں گے اور نہ ہی یہ لازم ہوگاکہ کوتاہی کی صورت میں قسم والا کفارہ دیا جائے یا اسے معاف کروانےکے لیے آئندہ حلف اٹھانے سے گریز کیا جائے۔
البتہ تحقیق اور محکمہ پولیس کے کاموں کی نوعیت اور عرف کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ حلف نامے میں جو امور مذکور ہیں درحقیقت یہ آپ کی ملازمت کے تقاضے ہیں جو محکمہ پولیس میں ملازمت اختیار کرلینےکے بعدحلف واقرار کے بغیر بھی ازخود پولیس آفیسر کی ذمہ داریوں میں شامل ہوجاتے ہیں اور انہیں امانت ودیانت داری کے ساتھ انجام دینا لازم ہوجاتا ہے۔
ان ذمہ داریوں کی امانت کے ساتھ ادائیگی میں اگر کہیں مشکل درپیش آرہی ہے مثلا ماتحت سپاہی وردی،بوٹ ہیلمنٹ وغیرہ نہ پہنتے ہوں حالانکہ ان کی یہ چیزیں درست رکھنا آپ کی ذمہ داری ہو تو مقررہ اختیارات کی حدود میں رہتے ہوئے آپ کو جس جائز قانونی چارہ جوئی کی اجازت دی گئی ہو اسے اختیار کرکے ان امور کو درست کروانا چاہیے ،لیکن اگر آپ کو سخت ضرر یا نقصان پہنچنے کا یقین یا ظن غالب ہو تو دل میں اسے برا سمجھتے ہوئے آہستہ آہستہ حکمت و بصیرت کے ساتھ ان غلطیوں کی اصلاح کی کوشش جاری رکھیں۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (2/ 51)
(وأما ركن اليمين بالله) فذكر اسم الله، أو صفته.
(صحيح مسلم ، باب بيان كون النهي عن المنكر من الإيمان،ج1ص ، 69 ط ،دار إحياء التراث العربي - بيروت)
عن أبی سعيد الخدري سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان"
شرح النووي على مسلم (2/ 25)
فإن غلب على ظنه أن تغييره بيده يسبب منكرا أشد منه من قتله أو قتل غيره بسبب كف يده واقتصر على القول باللسان والوعظ والتخويف فإن خاف أن يسبب قوله مثل ذلك غير بقلبه وكان في سعة وهذا هو المراد بالحديث إن شاء الله تعالى
شیرعلی
دارالافتاء جامعۃ الرشید
4ذوالقعدہ1443ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شیرعلی بن محمد یوسف | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


