021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جڑی ہوئی جڑواں بہنوں (conjoined twins) / (توأمين ملتصقين) سے نکاح کا حکم
77060نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء  دین اس مسئلہ   کے بارے میں  کہ دو بہنیں  جڑواں  پیدا  یوئی ہیں  ، حال یہ ہے کہ دونوں کے جسم آپس  میں   قدرة   جڑے ہوئے  ہیں ۔ اگر چہ جدید   سرجری کے ذریعہ  ہاتھ ، بازو کو ایک خاص طریقہ  سے جدا  کرلیا  جاتا لیکن مسئولہ صورت  یہ ہے کہ  دونوں کے پیٹ  جڑے ہوئے  ہیں جن کا جدا  کرنا  ممکن  نہیں ۔

1۔ان  دونوں کا نکاح ایک شخص  سے   ہوگا یا نہیں ؟

اگر  نکاح   ہوتا ہے تو وان تجمعو ا  بین ا لاختین کی آیت  منع کردیتی ہے ،اور  اگر دو آدمیوں سے نکاح کریں   تواس صورت  میں فحش  کام دوسرے کے سامنے  انجام پاتا  ہے ،یہ بد نظری  یہاں تک   دوسرے  کے محل میں جاکر زنا کاری کا قوی  امکان ہے ۔اس صورت میں کیا کیاجائے ۔

2۔اگر  دونوں کا بچہ  دانی ایک  ہو  تو  کیا ایک  مرد دونوں سے شادی کر سکتا  ہے یا نہیں ؟

o

اگر دونوں جڑواں بچیوں کا دل ایک  ہو  اس طرح کے کہ ایک ہی دل کی طرح کام کریں کہ دونوں کے  خیالات  تصورات وتصدیقات  ایک ہوں  تو  دونوں  جڑے  ہوئے  جسموں کو ایک ہی انسان  شمار کیاجائے گا ،کیونکہ  انسان کی  موت وحیات کا مرکز اور مدار  قوت  قلبیہ پر ہے دل ہی تمام افعال کا  منبع ہے ،ان دونوں دھڑوں  کی موت وحیات  بھی ایک ہی وقت پر ہے ،ان دو ابدان میں  جریان دم کا  عمل بھی ایک ہوتا ہے ،جب  یہ دو نوں جڑے ہوئے جسم  سارے  افعال میں  متحد  ہیں تو  حقیقت اور نفس الامر میں بھی ایک ہی جسم  شمار ہوگا ،مکرر  اعضا ءجسم ا صبع زائدہ  کی طرح ہے۔

جب یہ ایک انسان کی طرح  ہوا  تو  اس سے نکاح  جائز ہے ،کیونکہ اس سے کسی حرام کا  ارتکاب  یعنی  جمع بین الاختین اوراستمتاع  بالمحرمہ لازم نہیں آئے گا ،بلکہ جس طرح اصبع  زائدہ سے استمتاع جائز ہے اسی طرح اعضاء  مکررہ  سے بھی استمتاع جائز  ہوگا ۔

اگر جڑے ہوئے جسم دو ہونے کے ساتھ دل بھی  دو ہوں  کہ جسم جڑے ہوئے ہونے کے باوجود  دونو ں کے خیالات  تصورات  حرکات  سکنات  ارادات  الگ الگ ہوں  تو  دونوں  جسموں کو  ایک شمار نہیں کئے جاسکتے، بلکہ دوہی انسان ہونگے،لہذا  ایسی صورت  میں جب تک  دونوں جسم متصل رہیں  گے  ان کا نکاح نہیں  ہوسکتا،للزوم  احد الامرین المذکورین فی السوال۔البتہ بعد الانفصال دونوں کا الگ الگ  اشخاص کے ساتھ  نکاح  جائز ہوگا۔ کیونکہ اس میں کوئی شرعی خرابی موجود نہیں ہوگی۔ ﴿ماخوذ از رجسٹر  فتاوی  جامعة الرشید کراچی  دفتر 88﴾      

حوالہ جات

....

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

 دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

۵ ذی قعدہ  ١۴۴۳ھ

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔