021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھنا
77119جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

عُلماء کرام سے یہ سُنتے آئے ہیں کہ شلوار کا ٹخنوں سے نیچے رکھنا گناہِ کبیرہ ہے اور نماز کی حالت میں تو اس گناہ کی شدت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اب دیکھنے میں آ رہا ہے کہ ائمہ مساجد اپنی شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھتے ہیں اور اس میں خاص طورپر بریلوی امام مسجد بالکل بھی پرواہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے اب عوام الناس میں بھی اس گناہ کی برائی کا احساس ختم ہوتاجارہاہے۔ جو ائمہ کرام شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھتے ہیں ظاہری بات ہے اُن کے پاس بھی کوئی نہ کوئی دلیل ضرور ہوگی۔برائے مہربانی وضاحت فرمادیں کہ کیاواقع ہی شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھنے کی کوئی گنجائش نکلتی ہے؟

o

شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھنے پر حدیث میں بہت سخت وعید آئی ہے۔آپ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے:

«مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مَخِيلَةً، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

 جو کوئی اپنا کپڑا کبر وغروراورفخر کے طورپر (زمین پر) گھسیٹے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طر ف نظرِ کرم نہیں فرمائیں گے۔

ٹخنوں سے نیچے کپڑے پہننے کی وباء اتنی عام ہوچکی ہے کہ بعض اہل علم بھی اس میں مبتلا ہیں،کچھ لوگ ان احادیث کا سہارا لیتے ہیں جن میں ”خیلاء“ یعنی تکبر کی قید مذکور ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کفار ومشرکین تفاخر وتکبر اور احساسِ برتری کے مظاہرے کے لیے اپنے کپڑوں میں حد سے زیادہ اسراف کرتے تھے، جب وہ چلتے تو ان کی چادریں اور لنگیاں زمین پر گھسٹتی تھیں، اور اسے وہ بڑائی کی علامت جانتے تھے؛ لہذاجن احادیث میں ”خیلاء“ کی قید ہے، ان میں اس لفظ کے ذریعہ مشرکین کے اسی تکبر کی ترجمانی کی گئی ہے، اور ان کے متکبرانہ احوال کو اس لفظ ”خیلاء“ کے ذریعہ بیان کیا گیا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ یہ ”خیلاء“ کی قید مشرکین کی حالت اور واقعہ کو بیان کرنے کے لیے ہے؛ لہذا اب تکبر ہو ،یا نہ ہو ،دونوں صورتوں میں ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا درست نہ ہوگا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خوداس عمل سے پوری زندگی اجتناب فرمایا اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعینکو اس سے منع فرمایا؛ حالانکہ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین،امت کی سب سے بہترین جماعت ہیں، اگر تکبر نہ ہونے کا کسی کو دعویٰ ہوسکتا ہے، تو وہ اسی مقدس جماعت کو زیب دیتا ہے۔

اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

وإياك وإسبال الإزار؛ فإنه من المخيلة، والله لا يحب الخيلاء ".

 اسبالِ ازار سے بچو! کیوں کہ یہ تکبر کی وجہ سے ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں فرماتے۔

حوالہ جات

الآداب للبيهقي (ص: 206):
 عن العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه قال: سألت أبا سعيد الخدري هل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في الإزار شيئا قال: نعم سمعته يقول: «أزرة المؤمن إلى أنصاف ساقيه، لا جناح عليه فيما بينه وبين الكعبين، وما أسفل من الكعبين من الإزار في النار، لا ينظر الله إلى من جر ثوبه بطرا»
شرح مشكل الآثار (8/ 441):
 وإياك وإسبال الإزار؛ فإنه من [ص:442] المخيلة، والله لا يحب الخيلاء ".

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

11/ذوالقعدہ1443ھ

n

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔