021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ازدواجی زندگی کو خوشگوار کیسے بنایا جائے؟
77233جائز و ناجائزامور کا بیانعورت کو دیکھنے ، چھونے اورجماع کرنے کے احکام

سوال

شادی شدہ زندگی کو کس طرح خوش گوار بنا سکتے ہیں کیسے اس کو انجوائے کرنا چاہیے؟ایسی کیا ٹپس ہیں کہ جن کو اپنا کر مثالی زوجین،مثالی والدین و مثالی گھرانہ تشکیل میں آ سکے؟

o

 میاں بیوی کا رشتہ ایک انتہائی حساس اور نازک ترین رشتہ ہے،پرسکون ازدواجی زندگی کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب میاں بیوی میں سے ہر ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت رکھے،اس کے بغیر ازدواجی زندگی پرسکون نہیں ہوسکتی،عورت اگر یہ چاہے کہ میں شوہر کو گھر کا سربراہ اور اپنا بڑا تسلیم نہ کروں،اس کے مقام و مرتبے کا لحاظ نہ رکھوں،لیکن شوہر میرے حقوق میں ذرا بھی غفلت نہ برتے تو یہ شوہر کی حق تلفی ہے،اسی طرح اگر شوہر خود بیوی کے حقوق کی کوئی پرواہ نہ کرے،لیکن چاہے کہ بیوی مکمل طور پر میری مطیع و فرماں بردار بن کر رہے تو یہ بھی سراسر نا انصافی اور ظلم ہے،کیونکہ وہ اس کی بیوی ہے،زر خرید لونڈی نہیں،چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:

{وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} [البقرة: 228]

اور ان عورتوں کو معروف طریقے کے مطابق ویسے ہی حقوق حاصل ہیں جیسے مردوں کو ان پر حاصل ہیں،ہاں مردوں کو ان پر ایک درجہ فوقیت ہے اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔

اس آیت میں میاں بیوی کے تعلقات کا ایسا جامع دستور پیش کیا گیا ہے جس سے بہتر کوئی دستور نہیں ہو سکتا اور اگر اس جامع ہدایت کی روشنی میں ازدواجی زندگی گزاری جائے تو اس رشتہ میں کبھی بھی تلخی اور اختلاف پیدا نہ ہو، یہ آیت بتا رہی ہے کہ بیوی محض نوکرانی اور خادمہ نہیں، بلکہ اس کے بھی کچھ حقوق ہیں، جن کی پاس داری شریعت میں ضروری ہے،میاں بیوی کے چند بنیادی حقوق درج ذیل ہیں:

شوہر کے حقوق: 1۔شوہر کی اطاعت :بیوی کے ذمے ہر جائز کام میں شوہر کی اطاعت لازم ہے،کیونکہ اللہ تعالی نے مرد کو حاکم بنایا ہے،البتہ ناجائز کام میں اطاعت کی اجازت نہیں،کیونکہ مخلوق کی رضا اور دلجوئی کی خاطر خالق کی نافرمانی جائز نہیں۔

2۔شوہر کے مال اور عصمت کی حفاظت :یعنی شوہر کے مال اور اپنی عزت کی حفاظت کرے،شوہر کا مال غیر ضروری کاموں میں نہ خرچ کرے اور نہ کسی نامحرم مرد سے تعلقات قائم کرے۔

3۔ زیب و زینت: عورت کو گھر میں میلا کچیلا نہیں رہنا چاہیے،بلکہ صاف ستھری رہے اور شرعی حدود میں رہتے ہوئے بناؤ سنگھار کرے۔

 4۔ خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نہ جائے،البتہ خاوند کو بھی اس حوالے سے بے جا سختی نہیں کرنی چاہیے،بلکہ بوقتِ ضرورت خود لے کر جانا چاہیے۔

بیوی کے حقوق: 1۔ مہر کی ادائیگی :اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:عورتوں کو ان کا مہر راضی و خوشی سے ادا کردو۔(سورةالنساء:4)نکاح کے وقت مہر کی تعیین اور شب زفاف سے قبل اس کی ادائیگی ہونی چاہیے ،اگر چہ طرفین اتفاق سے مہر کی ادائیگی کو موٴخر بھی کر سکتے ہیں۔

2۔نان نفقہ: شریعت نے عورت کا نان نفقہ شوہر کے ذمے لازم کیا ہے،لہذا بیوی کے کھانے،پینے،پہننے اور رہائش کا انتظام شوہر کے ذمے اس کی حیثیت کے مطابق لازم ہے،چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:

{أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ } [الطلاق: 6]

ان عورتوں کو اپنی حیثیت کے مطابق اسی جگہ رہائش مہیا کرو جہاں تم رہتے ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے انہیں ستاؤ نہیں۔

3۔حسن معاشرت:شوہر کو چاہیے کہ وہ بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

{وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا} [النساء: 19]

ان کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کرو اور اگر تم انہیں پسند نہ کرتے ہو تو یہ عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔

نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک کا مفہوم ہے کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہوں۔

علاوہ ازیں میاں بیوی کا تعلق ایسا نہیں کہ صرف ضابطہ کے حقوق معلوم کرکے اس کے مطابق گزر اوقات کی جائے،بلکہ میاں بیوی میں سے ہر ایک ضابطہ کے حقوق سے بڑھ کر ایک دوسرے کے ساتھ جتنی خیر خواہی،ہمدردی اور محبت کا برتاؤ اور معاملہ  کریں گے اتنی ہی ازداوجی زندگی پرسکون ہوگی۔

حوالہ جات

۔۔۔۔

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

22/ذی قعدہ1443ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔