021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حالت حیض میں عورت سے استمتاع کا حکم
77234جائز و ناجائزامور کا بیانعورت کو دیکھنے ، چھونے اورجماع کرنے کے احکام

سوال

دورانِ ایام شوہر بیوی کے کتنے جسم سے لطف اندوز ہو سکتا ہے اور کہاں چھونا جائز نہیں رہتا؟اگر شوہر بیوی کے جسم پہ جہاں سے عورت کی خواہش ابھرتی ہے(مراد فرج ہے)، وہاں بنا کپڑا حائل کئے خواہش پوری کرے تو یہ کیسا عمل ہے؟اگر ایسا کر لیا ہو تو کیا کریں؟

اگر دورانِ ایام شوہر بیوی سے یا بیوی خود اوپر اوپر سے ہی اپنی خواہش پوری کرے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟اگر کپڑے کے اوپر سے کرے تو کیا حکم ہوگا اور کپڑا ہٹا کر جسم پہ اوپر سے کرے تو کیا حکم ہوگا۔

تنقیح:آخری سوال کا مقصد یہ ہے کہ کیا حالت حیض میں میاں بیوی اپنی شرمگاہیں ایک دوسرے سے رگڑ کر اپنی خواہش پوری کرسکتے ہیں؟

o

حالت حیض میں شوہر کے لئے بیوی کی ناف سے لے کر گھٹنوں تک کے حصے سے بغیر کسی حائل کے لطف اندوز ہونا شرعا منع ہے،اس کے علاوہ جسم کے دیگر حصوں سے بغیر حائل کے بھی لطف اندوز ہونے کی اجازت ہے،جبکہ کسی حائل یعنی کپڑے کے ہوتے ہوئے ناف سے لے کر گھٹنوں تک کے حصے سے بھی لطف اٹھایا جاسکتا ہے۔

لہذا حائل کے ہوتے ہوئے میاں بیوی کا اپنی شرمگاہیں ایک دوسرے سے ملاکر ایک دوسرے کی خواہش پوری کرنے میں شرعا کوئی حرج نہیں،لیکن اگر ایسا کرنے کی وجہ سے جماع میں ابتلاء کا اندیشہ ہو تو پھر اس سے بھی گریز کرنا چاہیے،البتہ بغیر حائل کے ایسا کرنا جائز نہیں اوراگر انجانے میں ایسا ہوگیا ہے تو اس پر سچے دل سے توبہ و استغفار کریں اور آئندہ کے لئے اس سے بہر صورت اجتناب کیا جائے۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (1/ 292):
"(وقربان ما تحت إزار) يعني ما بين سرة وركبة ولو بلا شهوة، وحل ما عداه مطلقا. وهل يحل النظر ومباشرتها له؟ فيه تردد".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله ومباشرتها له) سبب تردده في المباشرة تردد البحر فيها، حيث قال: ولم أر لهم حكم مباشرتها له.
ولقائل أن يمنعه بأنه لما حرم تمكينها من استمتاعه بها حرم فعلها به بالأولى. ولقائل أن يجوزه بأن حرمته عليه لكونها حائضا، وهو مفقود في حقه فحل لها الاستمتاع به ولأن غاية مسها لذكره أنه استمتاع بكفها وهو جائز قطعا. اهـ. واستظهر في النهر الثاني: لكن فيما إذا كانت مباشرتها له بما بين سرته وركبته، كما إذا وضعت يدها على فرجه كما اقتضاه كلام البحر، لا إذا كانت ما بين سرتها وركبتها؛ كما إذا وضعت فرجها على يده فهذا كما ترى تحقيق لكلام البحر لا اعتراض عليه فافهم، وهو تحقيق وجيه؛ لأنه يجوز له أن يلمس بجميع بدنه حتى بذكره جميع بدنها إلا ما تحت الإزار فكذا هي لها أن تلمس بجميع بدنها إلا ما تحت الإزار جميع بدنه حتى ذكره، وإلا فلو كان لمسها لذكره حراما لحرم عليها تمكينه من لمسه بذكره لما عدا ما تحت الإزار منها، وإذا حرم عليه مباشرة ما تحت إزارها حرم عليها تمكينه منها فيحرم عليها مباشرتها له بما تحت إزارها بالأولى".
"البحر الرائق " (1/ 209):
"وقد علم من عباراتهم أن يجوز الاستمتاع بالسرة وما فوقها وبالركبة وما تحتها والمحرم الاستمتاع بما بينهما وهي أحسن من عبارة بعضهم يستمتع بما فوق السرة وما تحت الركبة كما لا يخفى فيجوز له الاستمتاع فيما عدا ما ذكر بوطء وغيره ولو بلا حائل وكذا بما بينهما بحائل بغير الوطء ولو تلطخ دما".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

22/ذی قعدہ1443ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔