021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پتنگ بازی اورپتنگوں کے کاروبارکا حکم
77477جائز و ناجائزامور کا بیانبچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

پتنگ بازی  اورپتنگوں  کے کاروبارکا کیا حکم  ہےجائزہے یاناجائز؟ وضاحت فرماکرشکریہ کاموقع دیں۔

o

بسنت  کے موقع پر  پتنگ اڑانا یا اس کا کاروبار کرنا حرام  بلکہ ایمان  کو خطرے میں ڈالنےوالے عمل  ہیں اس لیے کہ بسنت ایک غیراسلامی تہوار ہے جس کی ابتداء ۱۷۴۷ءکو ہوئی۔ جو ہندو لوگ ایک گستاخ رسول ’’حقیقت رائے‘‘ کو دادِ تحسین دینے کے طور پر مناتے ہیں، اس لیے مسلمانوں کا بسنت میلہ منانا قطعاً ناجائز ہے۔ اوراس سے احتراز لازم ہے۔

اوربسنت کے علاوہ  دوسرے دنوں  میں بھی اس کا اڑانا یا کاروبار کرنا درست  نہیں۔ اس سے بسنت   کو تقویت  ملتی ہے ۔ یہ  فساق کا شعار بنتا جارہا ہے ۔  نیز وقت ، پیسہ ، وسائل  اور قیمتی  جانوں  کا ضیاع  اس کی لازمی خرابیاں ہیں ۔

 اسلام کے اندر صرف دو تہوار ہیں ایک عید الضحیٰ دوسرا عید الفطر، ان کے علاوہ کسی اور خاص دن کے منانے سے منع کیا گیا ہے جیسا کہ اسلام سے پہلے دو دن ’’نیروز‘‘ اور ’’مہرجان‘‘ تہوار کے طور پر منائے جاتے تھے، حضور اکرمﷺ نے ان سے منع فرمایا اور جو کھیل تماشہ ان میں ہوتا تھا اس سے بھی منع فرما دیا اور ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان دونوں کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں، یعنی عید الضحیٰ اور عید الفطر، لہذا مسلمانوں پر اس قسم کے تہوار منانے سے احتراز کرنالازم ہے۔

حوالہ جات

وعن أنس -رضي الله عنه- قال: « قدم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- المدينة، ولهم يومان يلعبون فيهما، فقال: قد أبدلكم الله بهما خيرا منهما: يوم الأضحى، ويوم الفطر » أخرجه أبو داود، والنسائي بإسناد صحيح.
فيض القدير المناوي - (ج 4 / ص 511)
( قدمت المدينة ولأهل المدينة يومان يلعبون فيهما في الجاهلية ) هما يوم النيروز والمهرجان ( وإن الله تعالى قد أبدلكم بهما خيرا منهما يوم الفطر ويوم النحر ) قال الطيبي : وهذا نهي عن اللعب والسرور فيهما وفيه نهاية من اللطف وأمر بالعبادة وأن السرور الحقيقي فيهما { قل بفضل الله وبرحمته فبذلك فليفرحوا } قال مخرجه البيهقي : زاد الحسن فيه أما يوم الفطر فصلاة وصدقة وأما يوم الأضحى فصلاة ونسك قال المظهر : وفيه دليل على أن تعظيم يوم النيروز والمهرجان ونحوهما منهي عنه وقال أبو حفص الحنفي : من أهدى فيه بيضة لمشرك تعظيما لليوم كفر وكان السلف يكثرون فيه الاعتكاف بالمسجد وكان علقمة يقول اللهم إن هؤلاء اعتكفوا على كفرهم ونحن على إيماننا فاغفر لنا وقال المجد ابن تيمية : الحديث يفيد حرمة التشبه بهم في أعيادهم لأنه لم يقرهما على العيدين الجاهليين ولا تركهم يلعبون فيهما على العادة وقال أبدلكم والإبدال يقتضي ترك المبدل منه إذ لا يجتمع بين البدل أو المبدل منه ولهذا لا تستعمل هذه العبارة إلا في ترك اجتماعهما.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

6/1/1443ھ

n

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔