021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سودا ختم کرنے پر بائع کا اپنی مرضی سے کچھ اضافی رقم دینا
77794خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کو ختم کرنے کے مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ کسی نے باغیچہ کا مال خریدا اور مشتری نےایڈوانس بھی دے دیا اور کچھ مال اس سے کاٹ بھی لیا گیا  لیکن کچھ دن بعد بائع اس معاملہ سے مکر جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے نہیں بیچنا اور معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے اور بغیر جبر کے اپنی طرف سے کچھ دینا چاہتا ہے ۔ کیا یہ رقم لینا صحیح ہے؟

o

باغیچے کا پھل بیچنے کے بعد بائع کو یک طرفہ طور پر سودا ختم کرنے کا اختیار نہیں۔ اگر مشتری رضامند ہو تو اس کی رضامندی کے ساتھ اقالہ کیا جا سکتا ہے لیکن اقالہ  یا واپسی کےعنوان سےمعاملہ ختم کرنے کے لیے راجح قول کے مطابق شرعاً یہ  ضروری ہے کہ وہ اتنی رقم پر ہو جتنی رقم پر پہلا سودا ہوا تھا۔ اس سے کم یا زیادہ رقم پر اقالہ جائز نہیں۔البتہ اگر بائع اپنی آزادانہ رضامندی سے فسخ عقد کی طرف نسبت کیے بغیر کچھ رقم اضافی دینا چاہے تو اس کی گنجائش ہے لیکن مشتری کی طرف سےاصراریا شرط کےطورپرمعاملہ ختم کرنے پر اضافی رقم دینا جائز نہیں۔ ایک جائز متبادل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اقالہ  یا واپسی کے الفاظ سےپہلاسوداختم کرنے کی بجائے باغیچے کا مالک پھلوں کے مالک سےاس کی رضامندی کے ساتھ نئی قیمت پر باقی پھل  واپس خریدنے کا معاملہ کر لے۔ اس صورت میں چونکہ یہ دوبارہ خریداری پہلے سے طے نہیں تھی لہذا  سابقہ سودے سے زائد رقم پر نیا سودا جائز ہو گا۔

حوالہ جات

  • الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 23)
وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية۔
  • بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 306)
وثمرة هذا الاختلاف إذا تقايلا ولم يسميا الثمن الأول أو سميا زيادة على الثمن الأول أو أنقص من الثمن الأول، أو سميا جنسا آخر سوى الجنس الأول قل أو كثر أو أجلا الثمن الأول فالإقالة على الثمن الأول في قول أبي حنيفة - رحمه الله -: وتسمية الزيادة والنقصان والأجل والجنس الآخر باطلة سواء كانت الإقالة قبل القبض أو بعدها، والمبيع منقول أو غير منقول لأنها فسخ في حق العاقدين، والفسخ رفع العقد، والعقد رفع الثمن الأول فيكون فسخه بالثمن الأول ضرورة؛ لأنه فسخ ذلك العقد، وحكم الفسخ لا يختلف بين ما قبل القبض وبين ما بعده وبين المنقول وغير المنقول، وتبطل تسمية الزيادة والنقصان والجنس الآخر والأجل، وتبقى الإقالة صحيحة؛ لأن إطلاق تسمية هذه الأشياء لا يؤثر في الإقالة؛ لأن الإقالة لا تبطلها الشروط الفاسدة وبخلاف البيع؛ لأن الشرط الفاسد إنما يؤثر في البيع؛ لأنه يمكن الربا فيه.والإقالة رفع البيع فلا يتصور تمكن الربا فيه فهو الفرق بينهما۔
  • الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 170)
۔۔۔ذلك الفضل (لأحد المتعاقدين) أي بائع أو مشتر فلو شرط لغيرهما فليس بربا بل بيعا فاسدا (في المعاوضة) فليس الفضل في الهبة بربا فلو شرى عشرة دراهم فضة بعشرة دراهم وزاد دانقا إن وهبه منه انعدم الربا ولم يفسد الشراء وهذا إن ضرها الكسر لأنها هبة مشاع لا يقسم كما في المنح عن الذخيرة عن محمد. وفي صرف المجمع أن صحة الزيادة والحط قول الإمام وأن محمدا أجاز الحط وجعله هبة مبتدأة كحط كل الثمن وأبطل الزيادة قال ابن ملك والفرق بينهما خفي عندي۔
  • النهر الفائق شرح كنز الدقائق (3/ 432)
 في كنز الدقائق:  وشراء ما باع بالأقل قبل النقد ۔
و في النهر:  (بالأقل) خرج بذلك المساوي والأكثر وإنما يظهر ذلك عند اتحاد جنس الثمنين حتى لو اختلفا جاز.
  • المبسوط للسرخسي (13/ 125)
والممتنع شراء ما باع بأقل مما باع، فإذا لم يعلم أن الثمن الثاني أقل من الثمن الأول كان الشراء جائزا.
  • بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 200)
ولو باع عبدا بألف وقبضه المشتري ثم اشتراه البائع وعبدا آخر قبل نقد الثمن فإن الثمن يقسم عليهما على قدر قيمتيهما ثم ينظر فإن كانت حصة العبد الذي باعه مثل ثمنه أو أكثر جاز الشراء فيهما جميعا، أما في الذي لم يبعه فظاهر وكذا في الذي باعه، لأنه اشترى ما باع بمثل ما باع أو بأكثر مما باع قبل نقد الثمن وإنه جائز وإن كان أقل من ثمنه يفسد البيع فيه ولا يفسد في الآخر، لأن الفساد لكونه شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن وذلك وجد في أحدهما دون الآخر۔

نفیس الحق ثاقب

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

16 صفر  1444ھ

n

مجیب

نفیس الحق ثاقب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔