| 77866 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھیل،گانے اور تصویر کےاحکام |
سوال
میرا ایک قلم ہے جس پر چھوٹی چھوٹی تصویریں ہیں، یہ تصویریں دور سے نظر نہیں آتیں اور نہ اس میں تصویروں کی کوئی تعظیم
پائی جاتی ہے، کیا اس قلم کا استعمال میرے لیے جائز ہو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر قلم پر بنی تصویریں اتنی چھوٹی ہیں کہ زمین پر کھڑے ہو کر ان کے چہروں کے نقوش آسانی سے نظر نہیں آتے تو ایسے قلم کے استعمال کی گنجائش ہے، اگر تصویریں چھوٹی لیکن واضح ہوں تو ایسے قلم کے استعمال کے لیے ان کو ٹیپ یا کسی اور ذریعہ سے چھپانا ضروری ہو گا۔
حوالہ جات
قال العلامة علي بن أبي بكر المرغيناني: ولو كانت الصورة صغيرة بحيث لا تبدو للناظر، لا يكره. (الهداية: 222/1)
والكراهة إذا كانت الصورة كبيرة وتبدو للناظر من غير تكلف، فإذا كانت صغيرة أو ممحوة الرأس ، لا بأسبه (الفتاوى التاتارخانية : 203/2)
قال العلامة ابن عابدين الصورة الصغيرة لا تكره في البيت . قال : ونقل أنه كان على خاتم أبي هريرة ذبابتان. (رد المحتار: 420/2)
محمد عمر الیاس
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
23 صفر 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمر بن محمد الیاس | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


