021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک وارث نے بعض میراث بیچ کر کاروبار شروع کیا تو وہ کس کا ہوگا؟
77982میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے دادی کے والد (الہ دین) تقسیمِ ہند کے وقت ہندوستان سے پاکستان آئے۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ (جیو)، تین بیٹے (عبد الغفور، عبد الشکور، عبد العزیز) اور ایک بیٹی (نتھو بی بی) بھی آئے، یہی ایک بیٹی ہماری دادی ہے۔ ہماری دادی کے والد کو کلیم میں تین مکان ملے۔ پھر ان کا انتقال ہوا، ان کے انتقال کے وقت ان کی اہلیہ، تین بیٹے اور بیٹی سب زندہ تھے، ان کی وفات تک یہ تینوں مکانات ان کے پاس تھے۔ اس کے بعد ہماری دادی کی والدہ کا انتقال ہوا، اس کے انتقال کے وقت اس کے ورثا میں یہ تین بیٹے اور ایک بیٹی زندہ تھی، اس کے والدین، دادا، دادی اور نانی میں سے کوئی زندہ نہیں تھا۔ ان تین مکانات میں سے دو میں یہ سب رہ رہے تھے، ایک مکان خالی تھا۔

الہ دین صاحب اور ان کی اہلیہ جیو کے انتقال کے بعد عبد الغفور نے ایک مکان (جو خالی تھا) بیچ کر اس سے کاروبار شروع کیا، کاروبار شروع کرتے ہوئے اس نے باقی دو بھائیوں اور بہن سے نہ اجازت لی، نہ انہیں اعتماد میں لیا اور نہ ان کو بتایا، اور اپنے بعد وہ کاروبار اپنے بچوں کو سونپ دیا۔ اس کاروبار سے مزید کئی دکانیں اور مکانات خریدے گئے ہیں، اور کاروبار اب بھی چل رہا ہے۔  

اس کے بعد ہماری دادی (نتھو بی بی) کا انتقال ہوا، اس کے انتقال کے وقت اس کے ورثا میں شوہر، تین بیٹے اور ایک بیٹی زندہ تھی۔ اس کے بعد عبد الشکور کا انتقال ہوا، اس کے انتقال کے وقت اس کے ورثا میں ایک بیوہ، ایک بیٹا اور چھ بیٹیاں زندہ تھیں۔ اس کے بعد عبد الغفور کا انتقال ہوا، اس کے انتقال کے وقت اس کی بیوہ، پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں زندہ تھیں۔ اس کے بعد عبد العزیز کا انتقال ہوا، عبد العزیز کی کوئی اولاد نہیں تھی، اس کی بیوہ زندہ ہے، اور بھتیجے اور بھانجے ہیں۔  

باقی دو مکانات ابھی تک تقسیم نہیں ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک عبد الغفور کے بیٹے کے قبضے میں ہے، یہ مکان عبد الغفور نے دوسرے ورثا کے علم میں لائے بغیر اپنے نام کیا تھا اور اب بھی ان کے نام پر ہے۔ اور دوسرے مکان میں عبد العزیز صاحب رہتے تھے جو اب ان کی بیوہ کے پاس ہے، یہ مکان بھی عبد العزیز صاحب نے دوسرے ورثا کے علم میں لائے بغیر اپنے نام کیا ہے۔  

اب سوال یہ ہے کہ ہماری دادی کے والد کے ان تین مکانات میں ہماری دادی کا کیا حصہ بنے گا؟ اور ایک مکان بیچ کر عبد الغفور نے جو کاروبار شروع کیا تھا، وہ کس کا ہوگا؟

o

صورتِ مسئولہ میں آپ کی دادی کے والد (الہ دین) نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں مذکورہ تین مکانات سمیت نقدی، سونا، چاندی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا تھا، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ تھا۔ اس ترکہ سے حقوقِ متقدمہ علی الارث ((1)تجہیز وتکفین کے اخراجات، اگر ہوئے تھے (2) ان کے ذمے لوگوں کے قرضے اور واجبات، اگر تھے (3) ایک تہائی کی حد تک جائز وصیت، اگر انہوں نے کی تھی) کی ادائیگی کے بعد اس میں ان کی بیوہ، تین بیٹے اور ایک بیٹی سب اپنے اپنے شرعی حصوں کے مطابق شریک تھے۔ پھر جب میراث کی تقسیم سے پہلے الہ دین مرحوم کی بیوہ (جیو) کا بھی انتقال ہوا اور انتقال کے وقت اس کے ورثا میں یہی تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی تو اس کا حصہ بھی ان چار افراد کی طرف منتقل ہوا، اور یہ تین مکانات ان چار افراد کی ملکیت میں آگئے جن میں ہر ہر بیٹا دو، دو حصوں اور بیٹی ایک حصے کی مالکہ بنی۔ لہٰذا اس وقت ان سب پر واجب تھا کہ ان تینوں مکانات کے سات حصے کر کے تین بھائیوں میں سے ہر ایک کو دو، دو حصے دیتے اور ایک حصہ بہن کو دیتے۔ بلاوجہ میراث کی تقسیم میں تاخیر کرنا جائز نہیں تھا۔ اسی طرح عبد الغفور کا دوسرے ورثا کی اجازت کے بغیر ایک مکان بیچ کر کاروبار شروع کرنا اور ایک مکان اپنے نام کرنا، اور ایک مکان عبد العزیز کا اپنے نام کرنا بھی جائز نہیں تھا، اس طرح کرنے کی وجہ سے یہ دونوں گناہ  گار ہوئے ہیں۔

اب حکم یہ ہے کہ:-

(1)۔۔۔ جو دو مکانات موجود ہیں وہ صرف اپنے نام کرنے کی وجہ سے عبد الغفور اور عبد العزیز کی ملکیت نہیں بنے، بلکہ اس میں ان تینوں بھائیوں اور بہن کا حصۂ میراث بدستور موجود ہے، جو اب ان کے انتقال کے ان کے ورثا کو ملے گا۔ لہٰذا ان دونوں مکانات کے سات برابر حصے کر کے دو حصے عبد الغفور کے ورثا کو دئیے جائیں، دو حصے عبد الشکور کے ورثا کو دئیے جائیں، دو حصے عبد العزیز کے ورثا کو دئیے جائیں، اور ایک حصہ نتھو بی بی کے ورثا کو دیا جائے۔ پھر ان میں سے ہر ایک کا حصہ اس کے ورثا کے درمیان ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا، جس کی تفصیل بوقتِ ضرورت معلوم کی جاسکتی ہے۔

(2)۔۔۔ جہاں تک اس مکان کا تعلق ہے جسے عبد الغفور نے بیچ کر اس سے کاروبار شروع کیا تو چونکہ عبد الغفور نے یہ مکان اپنے دو بھائیوں اور ایک بہن (جو شرعا اس مکان میں حصہ دار تھے) کی اجازت اور رضامندی کے بغیر بیچا اور اس سے کاروبار شروع کیا جس کا اس کو شرعا اختیار نہیں تھا؛ اس لیے ان تینوں (عبد الشکور، عبد العزیز اور نتھو بی بی) کے حصوں میں یہ غاصب شمار ہوگا، ان کے حصوں کو کاروبار میں لگانا اور اس سے نفع حاصل کرنا اس کے لیے جائز اور حلال نہیں تھا، غصب گناہِ کبیرہ ہے جس کی وجہ سے وہ شرعا سخت گناہ گار ہوئے ہیں۔ پھر اس غصب کا حکم یہ تھا کہ مکان بیچتے وقت اس کی جو قیمت حاصل ہوئی تھی، وہ اس میں سے عبد الشکور، عبد العزیز اور نتھو بی بی کے حصے وہ ان کو دیتا جو اس نے نہیں دئیے۔ لہٰذا اب اس کے انتقال کے بعد اس کے ورثا پر لازم ہے کہ اس کے ترکہ میں سے ان کے حصوں کی ادائیگی کریں، اس طور پر کہ مکان کی اس وقت حاصل شدہ قیمت کے سات حصے کر کے دو (2) عبد الشکور کے ورثا کو، دو (2) حصے عبد العزیز کے ورثا کو، اور ایک (1) حصہ نتھو بی بی کے ورثا کو دے، اور دو (2) حصے عبد الغفور کے شمار ہوں گے جو اس کے لیے حلال تھے۔  

یہ تو اصل مکان کا حکم ہوا۔ جہاں تک اس سے شروع کیے گئے کاروبار کا تعلق ہے تو چونکہ دوسرے ورثا کی رضامندی کے بغیر مشترکہ مکان اپنے لیے بیچنا اور اس سے کاروبار شروع کرنا غصب تھا، اس لیے عبد الشکور، عبد العزیز اور نتھو بی بی، عبد الغفور کے ساتھ کاروبار میں ساتھ شریک نہیں تھے۔ یہ کاروبار عبد الغفور کا شمار ہوگا، لیکن عبد الغفور کے اپنے حصے کے بقدر کاروبار اور اس کا نفع تو اس کے لیے جائز شمار ہوگا، جبکہ باقی دو بھائیوں اور ایک بہن کے حصوں کے بقدر کاروبار اور اس کا نفع اس کے لیے  جائز نہیں ہوگا۔ جب مذکورہ بالا طریقے کے مطابق عبد الغفور کے ورثا اس مکان میں عبد الشکور، عبد العزیز اور نتھو بی بی کا حصہ ان کے ورثا کو دیدیں گے تو اس کے بعد اصل کاروبار پورا کا پورا ان کے لیے جائز ہوجائے گا، لیکن کاروبار کی ابتداء سے اس وقت تک ان ورثا کے حصوں کے بقدر اس کاروبار کا جتنا نفع (جس شکل میں بھی) ہوا ہوگا، اسی طرح ان کے حصوں کے بقدر جتنا نفع عبد الغفور اور اس کے ورثا نے اس وقت تک استعمال کیا ہوگا، وہ ان کے لیے جائز نہیں ہوگا، اس قدر رقم بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا ان کے ذمے لازم ہوگا، اگر نفع کی یہ مقدار عبد الشکور، عبد العزیز اور نتھو بی بی کے ورثا کو ان کے حصوں کے حساب سے دیدیں تو بھی ان کا ذمہ فارغ ہوجائے گا۔

حوالہ جات

القرآن الکریم:
 {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11]
{وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ} [النساء: 12]
مجمع الضمانات (1/ 313):
ولو استعمل المغصوب بأن كان عبدا فأجره فالأجرة له ولا تطيب له فيتصدق بها، وكذا لو ربح بدراهم الغصب كان الربح له ويتصدق به، ولو دفع الغلة إلى المالك حل للمالك تناولها، كما في الهداية.
فقه البیوع (2/1044-1041):
  500- القسم الرابع: غلّة المغصوب وأرباحه:
القسم الرّابع من المال الخبيث أن يتصرّف الغاصبُ فى المغصوب، فيستغلّه ويحصل على غلّة، مثل أن يغصب سيّارةً، فيؤجرها ويحصل منه على أجرة، أو يبيعها فيربَح فيها، ثمّ يؤدّى الغاصبُ ضمانَ المغصوب، فمن يملك الغلّة أو الرّبح؟ فيه أقوال مختلفةٌ للفقهاء.
مذهب الحنفيّة :
ومذهبُ الحنفيّة أنّ الغاصبَ بعد أداء الضّمان يملكُ المغصوبَ مِلكاً مستنداً إلى وقت الغصب، وليس عليه ردُّ الغلّةِ أو الرّبحِ على المغصوب منه. ولكن هل يحلّ له الانتفاعُ بهذه الغلّة أو الرّبح؟ فيه خلافٌ بين الفقهاء الحنفيّة، فقال أبويوسف رحمه الله تعالى: يطيب له الرّبح والغلّة بعد أداء الضمان. وقال أبوحنيفة ومحمّد رحمهما الله تعالى: لايحلّ له الانتفاعُ به حتّى يُرضِىَ صاحبَه، ويتصدّقُ بالفضل.
قال الكاسانيّ رحمه الله تعالى: "ولو غصبَ أرضاً، فزرعها كُرّاً، فنقصتها الزّراعةُ وأخرجت ثلاثة أكرار، يغرَمُ النّقصان، ويأخذ رأسَ المال، ويتصدّق بالفضل. أمّا ضمانُ النّقصان؛ فلأنّ الغاصبَ نقص الأرض بالزراعة، وذلك إتلاف منه، والعقار مضمون بالإتلاف بلا خلاف. وأمّا التّصدّقُ بالفضل، فلحصوله بسببٍ خبيث، وهى الزّراعة فى أرض الغصب، وإن كان البذْر مِلكاً له، ويطيبُ له قدرُ النّقصان وقدرُ البذر، لما ذكرنا أنّ النّهى ورد عن الرّبح، وذا ليس بربح، فلم يحرم............وعلى هذا يخرج ما إذا غصب ألفاً فاشترى جاريةً، فباعها بألفين، ثمّ اشترى بالألفين جاريةً، فباعها بثلاثة آلاف أنّه يتصدّق بجميع الرّبح فى قولهما. وعند أبى يوسف رحمه الله تعالى: لايلزمه التّصدّقُ بشيئ، لأنّه رِبحُ مضمونٍ مملوكٍ، لأنّه عند أداء الضّمان يملكُه مستنداً إلى وقت الغصب، ومجرّدُ الضّمان يكفى للطّيب، فكيف إذا اجتمع الضّمان والمِلك. وهما يقولان: الطِّيب كما لايثبت بدون الضّمان، لايثبت بدون المِلك من طريق الأولى، وفى هذا المِلكِ شُبهة العدم على ما بيّنّا فيما تقدّم، فلا يُفيد الطِّيب."
وقد ذكر الكاسانيّ رحمه الله تعالى وجه شبهة العدم فيما سبق بقوله:
"لأنّ الطِّيبَ لايثبت إلاّ بالمِلك المطلق، وفى هذاالمِلك شبهةُ العدم؛ لأنّه يثبُت من وقت الغصب بطريق الاستناد، والمستنِد يظهر من وجهٍ، ويقتصر على الحال من وجهٍ، فكان فى وجودِه من وقت الغصب شبهةُ العدم، فلا يثبتُ به الحِلّ والطّيب؛ ولأنّ المِلكَ من وجهٍ حصل بسبب محظور، أووقع محظوراً بابتداءه، فلا يخلو من خبث."
 ولكن ذكر الزیلعي رحمه الله تعالیٰ أنّه لو هلك المغصوبُ فى يده، فضمّنه المالك، كان له أن يستعينَ بالغلّة فى أداء الضّمان؛ لأنّ الخبثَ كان لأجل المالك، فإذا أخذه المالكُ لايظهر الخبثُ فى حقّه. ولهذا لو سلّم إلى المالك المغصوبَ والغلّةَ جميعاً حلّ له التّناول، فيزول الخبثُ بالتّسليم، وتبرأ ذمّتُه عن القيمة بقدره.
والحاصل أنّه يجب على الغاصب أن يتصدّق بهذا الرّبح والغلّة على مذهب أبى حنيفة ومحمّد رحمهما الله تعالى، وهو المختار. ويجوز له أيضاً أن يُسلّم الرّبح أو الغلّةَ إلى المغصوب منه كما مرّ عن الزّيلعيّ. ومثلُه فى الفتاوى الهنديّة عن المحيط أنّ له الخيار بين أن يتصدّق أويردّ الأجرة إلى المغصوب منه.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

  4/ربیع الاول/1444ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔