021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسکیم میں شریک کرنے کا معاملہ بغیر قبضہ کے منعقد نہیں ہوتا
77979شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

سوال یہ ہے کہ ہم دو بندوں یعنی میں اور خالد ولید نے 2007 میں زمین کا کاروبار شروع کیا۔ تو پہلے اسکیم میں ہم برابر کے حصہ دار رہے۔ اس کےبعد دوسرے اسکیم میں میں نے خالد کو کہا کہ میں اس صورت میں آپ سے کام کرونگا کہ منافع میں سے میں اپنے بھائی کو %20 اور میں50% اور آپ ( خالد ولید )%30 پر کام کر یں گے ۔ تو اس نے کہا کہ میں اور آپ پیسہ لگار ہے ہیں ، محنت کر رہے ہیں۔ آپ کا بھائی دبئی میں بیٹھا ہے ، نہ اس نے ہمیں کوئی رقم دیاہے اور نہ محنت میں شامل ہے ۔ البتہ آپ کا محنت مجھ سے زیادہ ہے لہذا میں آپ کو %70 اور خود%30لوں گا تو پھر میں نے کاپی میں %50اپنااور %30 خالد کااور %20 اپنے بھائی کے نام لکھ دیا۔ تو ایک دفعہ ایساہوا کہ ایک اسکیم میں خالد کو میرے بھائی نے کہا کہ %9620لاکھ کا قرضہ میرا ہے، آپ کے ذمے ہیں تو بھائی نے اس کو قاصد کے ذریعے کہا کہ میرے 9لاکھ دیدیں ۔ تو خالد نے اس کو جواب دیا کہ میں آپ کا قرضدار نہیں ہوں اور نہ ہی آپ میرے حصہ دار ہے ۔ میں حاجی حبیب الرحمن (یہ میرا نام ہے ) کا قرض دار ہوں۔ لہذا آپ آئنده قاصد نہ  بھیجیں۔ تو سوال یہ کرتا ہے کہ کیا اس وقت میر ابھائی میر احصہ دار ہے ۔؟ جبکہ اس نے مجھے کاروبار کے لیے ایک ہزار بھی نہیں دیا۔ اور2007 سے لیکر آج تک اس نے میرے دفتر یازمینوں کے ٹریکٹر چلانےاورلیول و غیر ہ کرنے کے لیے ایک گھنٹہ بھی نہیں دیا۔ جبکہ میں نے خود اپنی رضامندی سے اس کو کئی جگہوں میں بطور بھائی کئی پلاٹ مفت دے چکا ہوں شریعت میں اس کا کیا حکم ہے کہ اگر میں ان کو نہ دوں تو اللہ تعالی کےہاں جوابدہ  ہوں یا نہیں؟ کیونکہ اس کا پیسہ شامل ہے نہ محنت۔ اور میرے حصہ دار خالد کئی دفعہ یہ کہہ چکا ہے وہ میرا نہیں آپ کا حصہ دار ہے تو ٹھیک ہے۔

وضاحت: سائل نے فون پر بتایا کہ میری محنت زیادہ تھی، اس لیے میں نے اپنا نفع بڑھانے کی غرض سے خالد سے کہا کہ نفع میں میرے بھائی کا بھی حصہ رکھو، جبکہ میرا مقصد اپنے بھائی کو شریک کرنے کا نہیں تھا، نہ میرے بھائی نے پیسہ لگایا اور نہ ہی کاروبار میں کبھی محنت کی، نیز میں نے اپنے بھائی سے کبھی نہیں کہا کہ میں نے آپ کو اس کاروبار میں اتنے  حصے کا شریک بنا لیا۔ یہ صرف خالد سے اپنی محنت کی بناء پر زیادہ نفع وصول کرنے کے لیے کیا تھا، تاکہ خالد محسوس نہ کرے کہ یہ اکیلا ستر(70%) فیصد نفع لے رہا ہے۔

سائل نے یہ بھی بتایا کہ ہمارا پراپرٹی کا کاروبار تھا، زمین خرید کر کالونی بنا کر بیچتے تھے، اس سلسلہ میں ہم کئی اسکیمیں شروع کیں، ان میں سے کچھ اسکیموں مکمل ہو چکی اور کچھ باقی ہیں، اسٹامپ پیپر پر معاہدہ لکھتے ہوئے لکھا تھا کہ میرا بھائی اس اسکیم میں اتنے فیصد کا شریک ہے، مطلب یہ کہ اس اسکیم کی جتنی زمین ہے اس میں سے اتنے فیصد کا یہ مالک ہے، لہذا اتنے فیصد حصے کے نفع اور نقصان کا یہ ذمہ دار ہو گا، کیا اس سے شرکت قائم ہو گئی؟ جبکہ میں نے زمین تقسیم کرکے زمین کا قبضہ اس کو نہیں دیا۔

o

مذکورہ صورت میں آپ اور آپ کے بھائی کے درمیان شرعی اصولوں کے مطابق کاروبار میں شرکت کا معاملہ نہیں ہوا،چنانچہ سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اس نے اس کاروبار میں سرمایہ لگایا نہ محنت اور نہ ہی کبھی نقصان برداشت کیا، جہاں تک فیصد کے اعتبار سے اسکیم کے ایک متعین حصے میں شریک کرنے کا تعلق ہے تو یہ شرعی اعتبار سے ہبہ (ہدیہ) ہے اور مذکورہ صورت میں شرعاً ہبہ کے درست ہونے کے لیے باقاعدہ زمین تقسیم کرکے قبضہ دینا ضروری تھا، کیونکہ زمین قابلِ تقسیم تھی، جبکہ آپ نے اپنے بھائی کو زمین تقسیم کرکے قبضہ نہیں دیا، اس لیے یہ ہبہ شرعاً درست نہیں ہوا۔ لہذاسوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق آپ کا بھائی مذکورہ کاروبار اور اس کے نفع میں سے بطورِ شریک کسی حصہ کا حق دار نہیں۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 254) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، كراتشي:
المادة (1329) شركة العقد عبارة عن عقد شركة بين اثنين أو أكثر على كون رأس المال والربح مشتركا بينهم.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام(ج:3ص:340): دار الجيل،بيروت:
أما ركن شركة الملك فهو عبارة عن اختلاط أو خلط الأموال كما ذكر في شرح المادة (1045) أي أن الشركة تنعقد بالإيجاب والقبول لأن شركة العقد هي أحد العقود الشرعية ويجب أن يكون لها ركن كالعقود الشرعية الأخرى " الدرر وتعبير " لفظا أو معنى " الواردة هنا يعود على الإيجاب والقبول معا (الطحطاوي)
المبسوط للسرخسي (12/ 48) دار المعرفة - بيروت:
ثم الملك لا يثبت في الهبة بالعقد قبل القبض - عندنا - وقال مالك - رحمه الله تعالى - يثبت؛ لأنه عقد تمليك؛ فلا يتوقف ثبوت الملك به على القبض كعقد البيع، بل: أولى؛ لأن هناك الحاجة إلى إثبات الملك من الجانبين فمن جانب واحد أولى، وحجتنا في ذلك ما روي عن النبي - صلى الله عليه وسلم -: «لا تجوز الهبة إلا مقبوضة» معناه: لا يثبت الحكم، وهو الملك۔
المعايير الشرعية (ص:325):
1/2: تعريف شركة العقد: اتفاق اثنين أو أكثر على خلط ماليهما أوعمليهماأوالتزاميهما في الذمة بقصد الاسترباح.
المعايير الشرعية (ص:327):
1/1/1/3: تنعقد الشركة باتفاق أطرافها بإيجاب كل واحدة منهم وقبول من باقي الشركاء. وينبغي من كتابة عقد الشركة وتسجيله رسميا إذا اقتضى الأمر ذلك، مع تحديد غرض الشركة في العقد أو في النظام الأساسي للشركة.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

8/ربیع الاول 1444ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔