021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سودی وغیرسودی بینک،انشورنس وتکافل کمپنی یا اسی طرح کے کام کرنے والی کمپنیز کے لیے سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی میں ملازمت کا حکم
78006اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

سافٹ ویئر بنانے والی ایسی کمپنی جو جائز کام کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ سودی بینکوں ،انشورنس کمپنیوں یا اسی طرح کے ناجائز کام کرنے والے اداروں کے لیےبھی سافٹ ویئر بناتی ہو اور ان کو اپنی کل وقتی  خدمات فراہم کرتی ہوتوایسی  سافٹ ویئرکمپنی میں ملازمت کاحکم کیا ہوگا؟

o

اگرسافٹ ویئر بنانے والی کمپنی سودی اور غیر سودی، انشورنس اور تکافل اور اسی طرح جائز کام کرنے والے اور ناجائز کام کرنے والے دونوں طرح کے اداروں کے لیے سافٹ ویئر بناتی ہو تو ایسی کمپنی میں ملازمت کرنا جائز ہے، لیکن ناجائز کاموں کے لیے سافٹ ویئر بناناجائز نہیں ہے،لہٰذا اس سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے،البتہ مجبوراً اگرناجائز کاموں کے لیے بننے والے سافٹ ویئر میں خدمات دینی پڑیں تو ایسی صورت میں توبہ استغفار کے ساتھ ساتھ اس کام کے بقدر اپنی تنخواہ میں سےصدقہ کرنا لازم ہوگا۔

حوالہ جات

قال الشیخ المفتی محمد تقی العثمانی حفظہ اللہ :وقد اشتھر علی الألسُن أن  حکم التعامل مع من کان مالُہ مخلوطا بالحلال والحرام أنہ اؔن کان الحلال فیھا أکثر،جاز التعامل معہ بقبول ھدیتہ وتعاقد البیع والشراء معہ،وبذٰلک صدرت بعض الفتاوی،ولکن مایتحقق بعد سبر کلام الفقہاء الحنفیۃ فی ھذا الموضوع أن اعتبار الغلبۃ انما ھو فیما اذا کان الحلال متمیزا عن الحرام عند صاحبہ،ولا یعلم المتعامل معہ أن مایعطیہ من الحلال أو من الحرام ،فحینئذ تعتبر الغلبۃ،بمعنی انہ ان کان اکثر مالہ حلالا،یفرض أن مایعطیہ من الحلال،والعکس بالعکس،کما قدمنا نصوصہ فی الصورۃ الاولی.
أما اذا کان مخلوطا بالحرام دون تمییز أحدھما بالآخر،فانہ لا عبرۃ بالغلبۃ فی ھذہ الحالۃ فی مذھب الحنفیۃ، بل یحل الانتفاع من المخلوط بقدر الحلال، سواء اکان الحلال قلیلا ام کثیرا.
                  (فقہ البیوع:۲/۱۰۳۱)
والملک الخبیث ،سبیلہ التصدق بہ…
                                                                        (الاختیار لتعلیل المختار:۳/۶۱)

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

09/ربیع الاول1444ھ

n

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔