| 91717 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
آج کل فاریکس ٹریڈنگ کا بہت شور چل رہا ہے، جس میں لوگ کہتے ہیں کہ یہ کرنسیوں، سونے، چاندی اور اسی طرح پیٹرولیم مصنوعات کی خرید و فروخت کا نام ہے۔ اس ٹریڈنگ کا شرعی حکم کیا ہے اور اس سے پیسے کمانا یا اس میں وقت لگانا کیسا ہے؟ اس لیے کہ لوگ اسے سیکھنے میں چھ سے سات مہینے لگاتے ہیں اور پھر اس میں باقاعدہ کام کرتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعتِ مطہرہ نے خرید و فروخت کی متعدد شرائط مقرر کی ہیں، جن میں سے تین اہم شرائط درج ذیل ہیں:
1۔ کسی بھی چیز کی خرید و فروخت حقیقی ہو، یعنی ایک کی طرف سے ثمن کی ادائیگی ہو اور دوسرے کی طرف سے فروخت شدہ مال دیا جائے۔
2۔ مال بیچنے والا اس کا مالک ہو اور اس نے اس پر قبضہ بھی کیا ہو۔
3۔ مختلف ممالک کی کرنسیوں کا لین دین ہو تو عقد کی مجلس میں ہی کسی ایک کرنسی پر حقیقتاً یا حکماً قبضہ کر لیا جائے۔ حقیقی خرید و فروخت نہ ہونے کی بنا پر اکثر صورتوں میں ادھار کی بیع ادھار کے بدلے ہوتی ہے، جو کہ ناجائز ہے۔
فاریکس ٹریڈنگ میں اسکرین پر محض اعداد و شمار کے بڑھنے اور گھٹنے کو نفع اور نقصان شمار کیا جاتا ہے، جبکہ حسی طور پریا تعیین کرکے کسی چیز پر قبضہ نہیں ہوتا۔ اس لحاظ سے اس میں قمار کی قباحت پائی جاتی ہے، اس لیے یہ ناجائز ہے۔ اس کاروبار میں ایک قباحت قبضہ کرنے سے پہلے فروخت کرنا بھی ہے، کیونکہ قریباً تمام لوگ خریداری محض کرنسی ریٹ یا دوسری اشیاء کی قیمت کے اتار چڑھاؤ کے ذریعے نفع حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس مال پر حسی یا بطور تخلیہ معین و ممیز طور پر قبضہ نہیں ہوتا۔ یوں سب لوگ بغیرحقیقی یا حکمی قبضہ کیے اس کو آگے فروخت کر دیتے ہیں، جو کہ جائز نہیں ہے۔
الغرض فاریکس ٹریڈنگ کے ذریعے کاروبار قمار (سٹہ) ، بیع المعدوم(غیر موجود شئی کی بیع) ، بیع قبل القبض (قبضہ سے پہلےمبیع آگے فروخت کرنا) اور بیع الکالی بالکالی(قرض کا قرض کے بدلے بیع)پر مشتمل ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور اس میں سرمایہ کاری شرعا جائز نہیں، اس لیے مسلمانوں کو اس سے احتراز لازم ہے۔
حوالہ جات
القران الکریم(المائدۃ:90):
قال الله تعالى: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔
الدر المختار (4/ 505)
وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين(4/ 561)
ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح وكذا الهبة والصدقة
المبسوط للسرخسي (1/ 41)
ولأن هذا العقد مبادلة الثمن بالثمن والثمن يثبت بالعقد دينا في الذمة والدين بالدين حرام في الشرع لنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع الكالئ بالكالئ فما يحصل به التعيين وهو القبض لا بد منه في هذا العقد.
أحکام القران للجصاص((582/2
وأما الميسر فقد روي عن علي أنه قال: "الشطرنج من الميسر" وقال عثمان وجماعة من الصحابة والتابعين: "النرد". وقال قوم من أهل العلم: "القمار كله من الميسر". وأصله من تيسير أمر الجزور بالاجتماع على القمار فيه, وهو السهام التي يجيلونها, فمن خرج سهمه استحق منه ما توجبه علامة السهم, فربما أخفق بعضهم حتى لا يحظى بشيء وينجح البعض فيحظى بالسهم الوافر; وحقيقته تمليك المال على المخاطرة.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 257)
(قوله لما فيه من القمار) هو المراهنة كما في القاموس، وفيه المراهنة، والرهان المخاطرة.
وحاصله أنه تمليك على سبيل المخاطرة.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 403)
(قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
10 /2/8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


