| 91604 | طلاق کے احکام | کسی کو طلاق واقع کرنے کا حق دینے کا بیان |
سوال
سوال نمبر 3: بغیر شرعی عذر کے طلاق واقع کرنے پر احادیثِ مبارکہ کی وعید: حضورِ اکرم ﷺ کا صریح ارشادِ گرامی ہے: ”أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ“ (سنن ترمذی - ترجمہ: جو عورت بغیر کسی سخت تکلیف یا شرعی عذر کے طلاق مانگے، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے)۔ نیز فرمایا: ”الْمُنْتَزِعَاتُ وَالْمُخْتَلِعَاتُ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ“ (سنن نسائی - ترجمہ: جو عورتیں بغیر کسی شرعی سبب کے شوہروں سے علیحدگی چھینتی ہیں، وہ منافقات ہیں)۔ چونکہ شوہر نے شرط رکھی تھی کہ یہ اختیار ”حدیثِ نبوی کی تعمیل“ میں استعمال ہونا چاہیے، اور مسمات نے کسی بھی ثابت شدہ شرعی عذر جیسے مار پیٹ یا نان نفقہ کی بندش کے بغیر طلاق واقع کر دی تو کیا مسمات کا یہ فعل مذکورہ احادیث کی صریح روگردانی نہیں ہے؟ جب فعل خود حدیث کے خلاف ہوا، تو کیا امتثالِ حدیث (Compliance) کی شرط ٹوٹنے کی وجہ سے یہ طلاق سرے سے کالعدم نہیں ہو گئی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(3)واضح رہے کہ شرعاً اور فقہِ حنفی کی رو سے ”حدیث یا سنت کی تعمیل“ (للسنۃ) سے مراد یہ ہے کہ عورت طلاق ایسے طہر (پاکی کے ایام) میں واقع کرے جس میں شوہر کے ساتھ جماع نہ ہوا ہو۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ طلاق کے نفاذ کے لیے لازماً کوئی شدید عذر (جیسے مار پیٹ) موجود ہو یا خاندانی ثالثی کا طویل عمل مکمل کیا گیا ہو۔
بغیر عذر کے طلاق طلب کرنے پر احادیث میں جو سخت وعید آئی ہے، اس کا تعلق آخرت کی جواب دہی اور گناہ سے ہے، لیکن دنیاوی اور قانونی لحاظ سے اس کی بنیاد پر واقع ہونے والی طلاق کو کینسل (Void) یا باطل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چونکہ مسمات نے ظاہری الفاظ کے مطابق دی گئی مہلت کے اندر اپنا حق استعمال کیا، اس لیے طلاقِ رجعی شرعاً نافذ العمل ہے۔
حوالہ جات
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (4/ 89):
«وفي المحيط قال للمدخولة طلقي نفسك ثلاثا للسنة بألف فقالت طلقت نفسي ثلاثا للسنة بألف فإن كانت طاهرة من غير جماع طلقت للحال واحدة»
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (4/ 78):
قال لم أعن الطلاق مع ذكره لا يصدق قضاء، ويصدق ديانة لأن الله تعالى عالم بما في سره لكن لا يسع المرأة أن تقيم معه لأنها كالقاضي لا تعرف منه إلا الظاهر كذا في المبسوط.
«المبسوط» للسرخسي (6/ 173):
«والحاصل أن إيجاب الخلع من الزوج في المعنى تعليق الطلاق بشرط قبولها؛ لأن العوض الذي من جانبه في هذا العقد طلاق، وهو محتمل للتعليق بالشرط؛ ولهذا لا يبطل بقيامه عن المجلس، ويصح منه، وإن كانت غائبة حتى إذا بلغها فقبلت في مجلسها»
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (4/ 141):
«وقد كان قال لها: أنت طالق للسنة وهي حائض ثم طهرت من حيضها وقع الطلاق»
«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (4/ 215):
وفيه وفي أبي داود عنه صلى الله عليه وسلم «أيما امرأة اختلعت من زوجها من غير ما بأس به لم ترح رائحة الجنة» لا بالحكم بعد النفاذ والصحة إذا وقع.
محمدسعید خان آفریدی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
12/صفر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعید خان آفریدی بن معین خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


