| 78130 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
شوہرکابیان:میں سیف الرحمان ولدسیف اللہ حلفا اقرارکرتاہوں کہ میری بیو ی نےمجھے کہاکہ تمہارےبھائیوں سےمیرا شرعی پردہ ہے،میں نےکہا اگرمیرےبھائیوں سےتمہاراپردہ ہےتوتیرابھائی بھی میرےگھرنہیں آئےگا،اگرآیاتوتمہیں تین لفظ ہیں،تومیری بیوی نےپوچھا تین لفظ طلاق ہیں ؟تومیں نےناں میں سرہلادیا،میری بیوی کہتی ہےتم نےہاں میں سرہلایا،اس کےبعد اسکابھائی بھی میرےگھرآیااورمیری بیوی بھی میرےبھائیوں کےسامنے گئی گویااس نےشرعی پردہ نہیں کیا،اس کےبعد پندرہ دن میری بیوی میرےساتھ رہی،اب پندرہ دن کےبعد کہتی ہے،تم نےمجھے طلاق دی تھی،اب معلوم یہ کرناہےکہ شریعت کی رو سےطلاق ہوئی یانہیں ؟راہنمائی فرمائیں۔
بیوی کابیان:میں حلفابیان کرتی ہوں،میں نےخاوندسےکہا میرا تمہارےبھائیوں سےپردہ ہے،تومیرےخاوند نےکہا،اگرتمہارےبھائی نےاس گھرمیں قدم رکھاتوتجھےتین لفظ ہیں،میں نےکہااس کامطلب طلاق ہے؟تومیرےخاوندنےزبان سےکہاہاں،میں حلفابیان کرتی ہوں کہ میں نےاپنےکانوں سےسناہے،اس کےبعدمیرابھائی میرےخاوند کےگھر آیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس وقت شوہرنے"تین لفظ" کہا،اس وقت اگرشوہرکی نیت طلاق کی تھی توطلاق واقع ہوگی،ورنہ نہیں۔
واضح رہےکہ طلاق کےحوالےسےمیاں بیوی کےدرمیان اختلاف کاحکم قضاء ودیانت کےلحاظ سےالگ الگ ہے،قضاء کےلحاظ سے حکم یہ ہےکہ اگربیوی کےپاس اپنےدعوی کوثابت کرنےکےلیےدوعادل مردیاایک مرداوردوعورتیں ہوں،جن کی گواہی شرعاقبول ہوتی ہےتوقاضی کےسامنےیاپنچایت میں عورت کی بات معتبرہوگی،چاہےوہ قسم نہ بھی کھائے،قاضی یاپنچایت اپنےطورپرتحقیق کرکےطلاق مغلظہ واقع کردےگی، جس کےبعد بغیر حلالہ کےدوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔
صورت مسئولہ میں چونکہ شوہر اس بات پر قسم کھارہاہےکہ لفظ سےمرادطلاق نہیں تھی،اورنہ ہی بیوی کےسوال کےجواب میں "ہاں "کہاتھا ،لہذا(اگربیوی کےپاس گواہ نہ ہوں تو) اس صورت میں قاضی یاحکم شوہر کی بات کےمطابق قضاء طلاق واقع نہیں کرےگااورمیاں بیوی کےنکاح کوبرقراررکھےگا۔
یہ حکم قضاء اورقانون کےلحاظ سےتھا،دیانت کےلحاظ سےاگرشوہرکی قسم کےباوجودعورت کویقین یاغالب گمان ہوکہ بیوی کی طرف سےپوچھنےپربعدمیں "ہاں"کہاتھاجوبیوی نےخودسناتھااوراب شوہرکی طرف سےٖغلط بیانی کی جارہی ہےتوپھراس صورت میں(چونکہ بیوی کےبقول تین طلاق مغلظہ واقع ہوچکی ہیں،جس کی وجہ سےمیاں بیوی کےلیےبغیرحلالہ کےساتھ رہناجائزنہیں)بیوی کےلیےدیانتاجائزنہیں ہوگاکہ وہ شوہرکےساتھ رہےاورشوہرکواپنےاوپرقدرت دے،ایسی صورت میں بیوی پرلازم ہوگاکہ شوہرسےعلیحدہ ہونےکےلیےکوئی بھی مناسب طریقہ اختیارکرکے(مزیدطلاق یاخلع لےکر) جتناجلدہوسکےشوہرسےعلیحدہ ہوجائے۔
حوالہ جات
"الدر المختار للحصفكي"6 / ص99:(ويسأل القاضي المدعى عليه) عن الدعوى فيقول إنه ادعى عليك كذا فماذا تقول (بعد صحتها وإلا) ۔۔۔۔(لا) يسأل لعدم وجوب جوابه (فإن أقر) فیها (أو أنكر فبرهن المدعي قضى عليه) بلا طلب المدعي (وإلا) يبرهن (حلفه) الحاكم (بعد طلبه)۔
"الهداية" 1 / 243: وإن اختلفا في وجود الشرط فالقول قول الزواج إلا أن تقيم المرأة بالبينة لأنه متمسك بالأصل وهو عدم الشرط ولأنه ينكر وقوع الطلاق وزوال الملك والمرأة تدعيه۔
"رد المحتار"11 / 189:قال في الفتح : وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه ۔
"فتح القدير"8 / 17:وكل ما لا يدينه القاضي إذا سمعته منه المرأة أو شهد به عندها عدل لا يسعها أن تدينه لأنها كالقاضي لا تعرف منه إلا الظاهر۔
"امدادالاحکام"2/781:وامادیانۃ فینبغی ان تفتی المرأۃ بحرمۃ تمکینہاایاہ علی نفسہ فلاتمکنہ بالرضاء وتسعی فی الامتناع منہ بالھرب اوبالخلع کمااذاطلقہاثلاثا وانکر تطلیقہ ایاھاولابینۃ لھافانہ لایفرق بینھما قضاء ویفتی فی حق المرأۃ بالتحریم ووجوب الامتناع عنہ،واللہ اعلم ۔
"الہندیۃ" 1/354:والمرأۃ کالقاضی لایحل لہ ان تمکنہ اذاسمعت منہ ذالک اوشہدلہ شاھدعدل عندھا۔۔۔۔ وزادالزیلعی ان المراٗۃ کالقاضی فلایحل لہ ان تمکنہ اذاسمعت منہ ذالک اوعلمت بہ لانھاتعلم الاالظاھر۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
13/ربیع الثانی 1444ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


