03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دستار بندی کی تقریب کے لئے طلبہ پر متعین رقم لازم کرنا
78531جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے ہاں بعض مدارس میں جن طلبہ یا طالبات کی دستار بندی یا چادر پوشی ہوتی ہے تو مدارس والے ان پر فکس رقم رکھتے ہیں،مثلا فی طالب علم یا طالبہ پانچ ہزار روپے،واضح رہے کہ ان طلبہ و طالبات میں سے بعض غریب بھی ہوتے ہیں،لیکن شرم اور مجبوری کی وجہ سے یہ رقم دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔

راہنمائی فرمائیں کہ اس طرح فکس رقم طلبہ یا طالبات سے لینا طیب نفس کے خلاف تو نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اس قسم کی تقاریب مدرسہ کے کام اور معیار کی تشہیر اور ختم کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لئے منعقد کی جاتی ہیں،اس لئے طلبہ کے والدین کو اس طرح کی تقاریب کے لئے چندہ دینے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا،کیونکہ کسی کا مال اس دلی رضامندی کے بغیر استعمال میں لانا جائز نہیں،البتہ صرف ترغیب دی جاسکتی ہے،پھر جو والدین بخوشی اس مد میں تعاون کرنا چاہیں تو ان سے تعاون لیا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات

"مرقاة المفاتيح " (5/ 1974):

"وعن أبي حرة الرقاشي، عن عمه - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - " «ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في " شعب الإيمان "، والدارقطني في " المجتبى ".

قال الملا علی القاری رحمہ اللہ:" (" ألا ") للتنبيه أيضا وكرره تنبيها على أن كلا من الجملتين حكم مستقل ينبغي أن ينبه عليه، وأن الثاني حيث يتعلق به حق العباد أحق بالإشارة إليه، والتخصيص لديه (" لا يحل مال امرئ ") أي: مسلم أو ذمي (" إلا بطيب نفس ") أي: بأمر أو رضا منه".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

20/جمادی الاولی1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب