03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مدرسے کے فنڈ سے تقریب میں بلائے گئے خطیب کو اجرت دینا
78530وقف کے مسائلمدارس کے احکام

سوال

بعض مدارس والے یہ رقم مدرسے کے فنڈ سے دیتے ہیں،شرعا مدرسے کے فنڈ سے یہ رقم دینا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جو چندہ دینے والوں نے کسی خاص متعین مصرف میں لگانے کے لئے دیا ہو اسے اس مصرف کے علاوہ کسی دوسرے مصرف میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں،البتہ وہ چندہ جو مدرسے کے عمومی مصارف کے لئے دیا گیا ہو اور دینے والے نے کسی خاص مصرف کی تعیین نہ کی ہو تو چندے کی ایسی رقم مدرسے کے مصالح میں استعمال کی جاسکتی ہے۔

چونکہ اس قسم کی تقاریب کا انعقاد مدرسہ کے کام اور معیار کی تشہیر اور ختم کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لئے منعقد کی جاتی ہیں،جو مدرسے کے مصالح میں شامل ہے،اس لئے مدرسے کے عمومی فنڈ سے یہ رقم دینے کی گنجائش ہے،لیکن پھر بھی بہتر یہ ہے کہ اس قسم کی تقاریب کے لئے الگ فنڈ مخصوص کیا جائے جو اسی مقصد کے لئے اکٹھا کیا جائے۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (2/ 269):

"الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل".

"البحر الرائق " (5/ 233):

"الثامنة في وقف المسجد أيجوز أن يبنى من غلته منارة قال في الخانية معزيا إلى أبي بكر البلخي إن كان ذلك من مصلحة المسجد بأن كان أسمع لهم فلا بأس به وإن كان بحال يسمع الجيران الأذان بغير منارة فلا أرى لهم أن يفعلوا ذلك".

"الفتاوى الهندية" (2/ 464):

"ولو أن قوما بنوا مسجدا وفضل من خشبهم شيء، قالوا: يصرف الفاضل في بنائه ولا يصرف إلى الدهن والحصير، هذا إذا سلموه إلى المتولي ليبني به المسجد وإلا يكون الفاضل لهم يصنعون به ما شاءوا، كذا في البحر الرائق ناقلا عن الإسعاف".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

20/جمادی الاولی1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب