| 78559 | وقف کے مسائل | قبرستان کے مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں طیب مسجد کے نام سے ایک مسجد ہے چھوٹی سی جگہ میں بنی ہوئی تھی ، اب مسجد کی توسیع کرنے کی نیت سے برابر والا مکان خریدا گیا ہے ۔اس مکان کے اکثر حصے کے کاغذات موجود ہیں ، اور کچھ حصہ لیز کاغذات میں شامل نہیں ہے ، جبکہ یہ مسجد بھی پہلے کچی آبادی میں بنی ہوئی تھی پھر بعد میں اس کے کاغذات ہم نے سرکاری محکمے سے بنوالئے تھے ۔
اب سوال یہ ہے کہ خریدے ہوئے پورے مکان کو مسجد میں شامل کرنے کا کیاحکم ہے ۔ کیا اس میں نماز ہوجائے گی ؟یہ بھی خیال رہے کہ یہ مکان تیس چالیس سال پرانا ہے اور اس کے غیر رجسٹرڈ حصے پر کسی کاکوئی ملکیتی دعوی نہیں ہے ، اور یہ جگہ راستے میں بھی نہیں ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال کی تحریر کے مطابق مذکورہ مکان کاغیررجسٹرڈ حصہ کسی کی ذاتی ملکیت میں نہیں ہے بلکہ سرکاری زمین ہے ۔اور نمازیوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے مسجد کی توسیع کی بھی شدید ضروت ہے ، تو ایسی صورت میں اہل محلہ کی ضرورت کے پیش نظر اس زمین پر مسجد کی توسیع جائز ہے ،البتہ یہ کوشش کرنا لازم ہے کہ مسجد کی بقیہ زمین کی طرح اس زمین کے کاغذات بھی بنوا لئے جائیں تاکہ مسجد مکمل قانونی بن جائے ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 379)
(تؤخذ أرض) ودار وحانوت (بجنب مسجد ضاق على الناس بالقيمة كرها) درر وعمادية.
(قوله: وتؤخذ أرض) في الفتح: ولو ضاق المسجد وبجنبه أرض وقف عليه أو حانوت جاز أن يؤخذ ويدخل فيه اهـ
درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 136)
قوله جاز جعل شيء من الطريق مسجدا) قيده الزيلعي بقوله وكان ذلك لا يضر بأصحاب الطريق، وكذا في فتح القدير اهـ.
الفتاوى الهندية (19/ 212)
وفي الأجناس وفي نوادر هشام قال : سألت محمد بن الحسن عن نهر قرية كثيرة الأهل لا يحصى عددهم وهو نهر قناة أو نهر واد لهم خاصة ، وأراد قوم أن يعمروا بعض هذا النهر ويبنوا عليه مسجدا ولا يضر ذلك بالنهر ولا يتعرض لهم أحد من أهل النهر قال محمد - رحمه الله تعالى - : يسعهم أن يبنوا ذلك المسجد للعامة أو المحلة ، كذا في المحيط .
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲۲جمادی الاول ١۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


