03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مالدار شخص کی بیوی کو زکوة دینا
78558زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

ایک عورت کا شوہر سترہ گریڈ کا سرکاری ملازم ہے،اس کے پاس اپنا گھر اور گاڑی بھی ہے،لیکن بیوی کو کھانے پینے کے علاوہ لباس،علاج معالجہ اور دیگر ضروریات کے لئے خرچہ نہیں دیتا،ایسی صورت میں کیا اس عورت کے بہن بھائی اسے زکوة دے سکتے ہیں یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شوہر کے صاحب نصاب (مالدار) ہونے کی وجہ سے بیوی صاحب نصاب نہیں بنتی،کیونکہ دونوں مستقل ملکیت کے حامل ہیں،اس لئے اگر بیوی صاحب نصاب نہ ہو،یعنی اس کی ملکیت میں سونا،چاندی،نقدی،مال تجارت اور ضرورت سے زائد سامان میں سے کوئی ایک چیز یا ان میں سے بعض یا سب  کا مجموعہ اتنی مقدار میں نہ ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ (۳۵ء ۶۱۲گرام )چاندی کے برابر ہوتو اس کے بہن بھائی اسے زکوة دے سکتے ہیں۔

حوالہ جات

"بدائع الصنائع " (2/ 47):

"ولو دفع إلى امرأة فقيرة وزوجها غني جاز في قول أبي حنيفة ومحمد وهو إحدى الروايتين عن أبي يوسف،وروي عنه أنها لا تعطي إذا قضي لها بالنفقة.

وجه هذه الرواية أن نفقة المرأة تجب على زوجها فتصير غنية بغنى الزوج كالولد الصغير، وإنما شرط القضاء لها بالنفقة؛ لأن النفقة لا تصير دينا بدون القضاء.

وجه ظاهر الرواية أن المرأة الفقيرة لا تعد غنية بغنى زوجها؛ لأنها لا تستحق على زوجها إلا مقدار النفقة فلا تعد بذلك القدر غنية".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

23/جمادی الاولی1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب