03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسمگلنگ کے کاروبار کا حکم
78065جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

آج کل لوگ کاروبارمیں کپڑے،موبائلز،اوردیگرضروری اشیاءکوباہرممالک سےسمگلنگ کی ذریعے سے ملک میں لاکرخریدوفروخت کرتےہیں،حالانکہ ایک طرف یہ حلال کاروبارہےاوردوسری طرف مقامی حکومت کی طرف سےاجازت نہیں ہے،یہ کاروباربہت عام ہواہے،ہرجگہ آپ کوغیرملکی اور اسمگل شدہ اشیاء ملتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ غیرملکی اشیاء کوحکومتی اجازت کےبغیراسمگل کرکےاس کی خریدوفروخت کا معاملہ کرنا کیساہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسمگلنگ کا مال بیچنےکا کاروبارکرنے میں جائزحکومتی قانون کی خلاف ورزی ہے،نیزاس سے ملک کے نقصان کا بھی قوی اندیشہ ہے،اس لیے یہ ناجائز ہے، البتہ جائز اموال کےکاروبار کی صورت میں اس کے منافع حلال ہیں۔(فتاوی عثمانی:ج۳،ص ۸۹واحسن الفتاوی:ج۸،ص۹۵)

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 172)

 مطلب تجب طاعة الإمام فيما ليس بمعصية

قال في الظهيرية: وهو تأويل ما روي عن أبي يوسف ومحمد فإنهما فعلا ذلك لأن هارون أمرهما أن يكبرا بتكبير جده ففعلا ذلك امتثالا له لا مذهبا واعتقادا قال في المعراج لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجبة اهـ

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۳۰ربیع الاول۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب