| 78724 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | ملازمت کے احکام |
سوال
عمرو اسکول میں استاد ہےچاہےاس کے کاغذات جعلی ہوں یااصلی وہ ڈیوٹی سےغیر حاضری کرتےہیں یاوقت مقررہ سےایک دوگھنٹےبعدآتاہےاورچھٹی سےپہلےگھرچلاجاتاہے،تقریباََ پندرہ سولہ سال بعداستعفادےکرحکومت سےفنڈحاصل کرتاہےاور پھرحکومت کی طرف سے اسےہرماہ تقریباپندرہ ہزارروپےملتےہیں،بعض اساتذہ کی وفات کےبعدیہ رقم ان کی اولاد کو ملتی ہے۔یہ فنڈ، رقم اور چھٹی کی رقم حلال ہےیاحرام؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ سوال میں عمرو کی ذمہ داری ہےکہ طےشدہ وقت مکمل طورپر اسکول میں اپنی ڈیوٹی کی ادائیگی میں صرف کرے، اگرچہ طلبہ غیرحاضر ہی کیوں نہ ہوں۔غیرحاضری کےوقت کی تنخواہ لینااس کےلئےجائزنہیں۔
پنشن جوکہ اس کواستعفا دینے کے بعدملتی ہےاورحکومت کی طرف سے عطیہ کی حیثیت رکھتی ہےاس کا لیناجائزہے۔
پنشن کی رقم چوں کہ ادارہ کی طرف سے عطیہ ہوتی ہےجوقبضہ کےبغیرملکیت میں نہیں آتاجبکہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے، لہذا ملازم کی وفات کےبعد جو پنشن کی رقم ملازم کےجس رشتہ دارکےنام جاری ہوگی وہ اس ہی کی ملکیت ہوگی اوراس میں وراثت جاری نہیں ہوگی۔
اگر ملازم اپنی زندگی میں اپنی اہلیہ یا کسی اور قریبی عزیز کو پنشن کی رقم کےلیے نامزد کردےاور ادارے کا ضابطہ اس بات کی اجازت دیتاہوکہ ملازم کے نامزد کردہ کو پنشن دی جائے تو جس رشتہ دار کا نام درج کیا گیا ہےو ہی اس کا حقدار ہوگا۔
اورجوفنڈاس کومخصوص مدت کےبعداستعفا دینے پرملتا ہے وہ ادارہ کی طرف سےاس کی سابقہ خدمات کے اعتراف اورمالی تعاون کےطورپرتبرعاًاس کودیاجاتاہےلہذا اس کالیناقضاءًاجائزہے،تاہم دیانۃاسےاپنی غیرحاضری کےبقدررقم ادارہ میں واپس جمع کروا دینی چاہئےاوریہ ممکن نہ ہوتواس کا صدقہ کردیناچاہئے۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين (4/ 372)
مطلب فيمن لم يدرس لعدم وجود الطلبة وفي الحموي سئل المصنف عمن لم يدرس لعدم وجود الطلبة فهل يستحق المعلوم أجاب إن فرغ نفسه للتدريس بأن حضر المدرسة المعينة لتدريسه استحق المعلوم لإمكان التدريس لغير الطلبة المشروطين قال في شرح المنظومة المقصود من المدرس يقوم بغير الطلبة
بدائع الصنائع((127/6
"أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض لأن الهبة تمليك العين من غير عوض فكان حكمها ملك الموهوب من غير عوض."
ولی الحسنین
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
08/جمادی الثانیہ1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ولی الحسنین بن سمیع الحسنین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


