03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مغصوبہ میراث کاحکم
78726میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

داداعورتوں کی میراث غصب کرتے ہیں، ان کے انتقال کے بعد یہ مغصوبہ مال ان کے ورثہ کے لئے کیساہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ والدین کے انتقال کےبعد ان کے ترکے میں جس طرح ان کی نرینہ اولاد کا حق ہوتا ہے اسی طرح بیٹیوں کا بھی اس میں شرعی حق ہوتا ہے، والدین کے انتقال کے بعد ان کے ترکے پرمردوں کا  خود قبضہ کرلینا اور عورتوں کو  ان کے شرعی حصے سے محروم کرنا ناجائز اور سخت گناہ ہے، مردوں  پر لازم ہے  کہ عورتوں کو ان کا حق اس دنیا میں دے دیں، ورنہ آخرت میں دینا پڑے گا اور آخرت میں دینا آسان نہیں ہوگا، اور جب تک داداعورتوں کو ان کا حق نہیں دیں گے اس وقت تک یہ حق ان کے ذمہ لازم رہے گا۔لہذایہ مال جودادانے غصب کررکھاہےیہ ان عورتوں ہی کی ملکیت ہےاور اسے داداکی میراث میں تقسیم کرناجائزنہیں۔

حوالہ جات

مشكاة المصابيح، 1/254

عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلما؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين». (مشكاة المصابيح، 1/254، باب الغصب والعاریة،ط:قدیمی)

مشكاة المصابيح، 1/266

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه.

تکملۃ رد المحتار علی الدر المختار  7/ 505

 الإرث جبري لَايسْقط بالإسقاط. 

الأشباہ والنظائر لابن نجیم  ص؛309

   "لوقال الوارِث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذالْمِلك لا يبطل بِالترك".

     ولی الحسنین

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

08/جمادی الثانیہ1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ولی الحسنین بن سمیع الحسنین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب