| 78766 | نکاح کا بیان | نسب کے ثبوت کا بیان |
سوال
میرے والد صاحب نے میرے ماموں کے بیٹے کو گود لیا تھا۔ میرے ماموں زندہ ہیں۔ میرے والد صاحب اپنے سا لے پالک کا نکاح کروارہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نکاح کے وقت میرے والد اپنے نام سے اس کا نکاح کرواسکتے ہیں؟ یا اس کے اصلی باپ کے نام سے نکاح کروانے کے پابند ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ کوئی بچہ یا بچی صرف پالنے کے لیے بطورِ لے پالک لینا، دینا جائز ہے، لیکن گود لینے کی وجہ سے وہ پالنے والے کی حقیقی اولاد نہیں بنتی۔ اور نسب، حقِ پرورش، ولایتِ نکاح اور میراث وغیرہ تمام احکام کا تعلق شرعاً اس کے اصل ماں باپ سے ہوتا ہے، پالنے والے سے نہیں۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اس لے پالک کا نکاح اس کے حقیقی باپ کے نام سے کروانا ضروری ہے، آپ کے والد صاحب اپنے نام سے اس کا نکاح نہیں کرواسکتے۔ نیز اگر وہ بچہ نابالغ ہے تو اس کے نکاح کرانے کا حق بھی آپ کے والد صاحب کو نہیں، اس کے حقیقی والد کو حاصل ہے، البتہ اگر وہ آپ کے والد صاحب کو اجازت دیدے تو پھر آپ کے والد صاحب اس کے وکیل کے طور پر نکاح کراسکتے ہیں۔
حوالہ جات
مسند أحمد (42/ 435):
عن عائشة أن أبا حذيفة تبنى سالما وهو مولى لامرأة من الأنصار كما تبنى النبي صلى الله عليه وسلم زيدا، وكان من تبنى رجلا في الجاهلية دعاه الناس ابنه، وورث من ميراثه، حتى أنزل الله عز وجل { ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين وموالیکم}، فردوا إلى آبائهم، فمن لم يعلم له أب فمولى وأخ في الدين، فجاءت سهلة، فقالت: یا رسول الله! کنا نری سالما ولدا، یأوي معي ومع أبي حذیفة، ویراني فضلا،وقد أنزل الله فیهم ما قد علمت، فقال: أرضعيه خمس رضعات، فكان بمنزلة ولده من الرضاعة.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
14/جمادی الآخرۃ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


