| 78796 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیان عظام درج ذیل صورتِ مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکی اور لڑکے کا نکاح تقریباً چھ سال پہلے ہوا تھا اور ابھی تک نہ رخصتی ہوئی ہے اور نہ کسی طرح کی خلوت صحیحہ ، کچھ عرصے سے کئی وجوہات کی بناء پر لڑکی والے لڑکے سے ( اور لڑکے کے گھر والوں سے ) لڑکی کو آزاد کرنے ( طلاق دینے) کا مطالبہ کر رہے تھے، کچھ دن پہلے لڑکی کی ماں ، لڑکے کی ماں سے اسی ( طلاق لینے کے) مطالبے سے آئی اور لڑکے کی ماں سے کہا کہ " دیکھو ہم عدالتی کارروائی کے ذریعے سے اپنی بیٹی کو ضرور آزاد کرائیں گے ، بہتر یہ ہے کہ تم لوگ گھر پر ہی معاملہ ختم کردو ( یعنی لڑکی کو آزاد کردو) تاکہ گھروں کی ناچاقی مزید نہ بڑھے ، اور نہ بات عدالتوں تک پہنچ جائے اسی طلاق لینے اور دینے کی بحث و مباحثہ کے دوران ہی لڑکے کی ماں نے لڑکے کو فون کیا تو لڑکے نے موبائل پر اپنی ساس سے ( پشتو میں یہ) کہا کہ " روکہ دی شی ستا لور ، مالہ نہ دہ پکار ( یعنی دفع ہو تیری بیٹی ، مجھے نہیں چاہیے)" اور پھر لڑکے نے ( اسی دوران موبائل پر ) اپنی ماں سے بھی ( پشتو میں) یہ کہا کہ "روکہ دی شی ، مالہ نہ دہ پکار ( یعنی دفع ہو ، مجھے نہیں چاہیے)، اب لڑکا کہتا ہے کہ ( پہ دے خبرو خزے نہ پریخیدے کیگی، ما نہ دہ پریخے، طلاقونہ پہ دے نرو نرو خبرو نہ کیگی) ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے بیویاں نہیں چھوڑی جاتیں، اور نہ طلاقیں پڑتی ہیں۔ اب اس کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکرکردہ الفاظ کاتعلق کنایہ کی پہلی قسم سے ہے،جس کاحکم یہ ہے کہ اگرشوہرقسم کھاکرطلاق کی نیت نہ ہونے کاکہتاہے تواس کی بات معتبرہوگی اورطلاق واقع نہیں ہوگی ،اگروہ طلاق کی نیت کااقرارکرے یاقسم کھانے سے انکارکردے توایسی صورت میں مذکورہ الفاظ سے طلاق شمارہوگی۔
حوالہ جات
فی رد المحتار (ج 11 / ص 166):
الكنايات ( لا تطلق بها ) قضاء ( إلا بنية أو دلالة الحال ) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب ، فالحالات ثلاث : رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب ، أو لا ولا ( فنحو اخرجي واذهبي وقومي ) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة ( يحتمل ردا ، ونحو خلية برية حرام بائن ) ومرادفها كبتة بتلة ( يصلح سبا ، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك ، أنت واحدة ، أنت حرة ، اختاري أمرك بيدك سرحتك ، فارقتك لا يحتمل السب والرد ، ففي حالة الرضا ) أي غير الغضب والمذاكرة ( تتوقف الأقسام ) الثلاثة تأثيرا ( على نية ) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله ، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى .
( وفي الغضب ) توقف ( الأولان ) إن نوى وقع وإلا لا ( وفي مذاكرة الطلاق ) يتوقف ( الأول فقط ) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچ
۱۴/جمادی الثانی ۱۴۴۴ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


