| 78784 | نکاح کا بیان | محرمات کا بیان |
سوال
مفتی صاحب !ایک رشتہ نکاح کی شرعی حکم واضح فرمائیں:
(۱)فاپی کے والدمولا اور والدہ فاتین اور(۲)شمشیرکےوالد خان اور ماں فاتین ہے اور ان کے علاوہ (۳) نواز کے والد جلیل اور والدہ فاتین اور(۴) جلیل کی بڑی بیٹی اور اس کی والدہ سردارن ہے۔
مفتی صاحب! ۱،۲اور۳کے والد علیحدہ علیحدہ ہیں، جبکہ ماں ایک ہے ،جبکہ ۳اور ۴کے والد ایک ہے اور ماں علیحدہ علیحدہ ہے۔
مفتی صاحب! جبکہ ۲ اور ۳ کی ماں ایک ہے اور ۳ اور ۴کے والد ایک ہیں، کیا ایس صورت حال میں ۲ اور ۴میں نکاح ہوسکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۲اور۴ کا آپس میں نکاح جائز ہے، اس لیے کہ جلیل کی بڑی بیٹی اورشمشیردونوں کےوالدین الگ الگ ہیں،زیادہ سے زیادہ یہ کہ جلیل کی بیٹی شمشیر کی والدہ کے شوہر کی بیٹی ہے، اس سے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 28):
أسباب التحريم أنواع: قرابة، مصاهرة، رضاع، جمع، ملك، شرك، إدخال أمة على حرة، فهي سبعة: ذكرها المصنف بهذا الترتيب وبقي التطليق ثلاثا، وتعلق حق الغير بنكاح أو عدة ذكرهما في الرجعة.
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۴جمادی الثانیۃ۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


