03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کی زکوة شوہر اور سسر پر لازم نہیں
78813زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

باپ نے بیٹے کی شادی کروائی اور اس کی بیوی کے لئے سونا بھی بنایا،باپ اور بیٹا ایک ساتھ ہی رہتے ہیں،اگر بیٹا اپنی بیوی کے سونے کی زکوة ادا نہیں کرتا تو کیا باپ پر زکوة کی ادائیگی لازم ہوگی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زکوة اسی شخص پر لازم ہوتی ہے جو نصاب کا مالک ہو،مذکورہ صورت میں چونکہ سونا بیوی کی ملکیت ہے،اس لئے بیوی کے صاحب نصاب ہونے کی صورت میں زکوة کی ادائیگی بھی اسی کے ذمے لازم ہوگی،شوہر یا سسر پر نہیں۔

البتہ عام طور پرگھر کے کام کاج میں مصروفیت کی وجہ سے عورتوں کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہوتا،جس کی وجہ سے ان کے پاس زیورات کی زکوة ادا کرنے کے لئے نقد رقم نہیں ہوتی،اس لئے اگر شوہر صاحب استطاعت ہو تو اخلاقی طور پر اسے بیوی کی طرف سے زکوة ادا کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے،لیکن اگر شوہر ادا نہ کرے تونہ اسے اس پر مجبور کیا جاسکتا اور نہ اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوگا۔

حوالہ جات

"صفوة التفاسير" (1/ 400):

"{وَلاَ تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَيْهَا} أي لا تكون جناية نفسٍ من النفوس إِلا عليها {وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أخرى} أي لا يحمل أحدٌ ذنب أحد، ولا يؤاخذ إِنسانٌ بجریمةغيره".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

15/جمادی الثانیہ1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب