03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گالی دینا یا کسی کو تکلیف پہنچانا
78814جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کسی شخص کو گالی دینا یا ایسے طریقے سے اسے اذیت پہنچانا جس سے اس کو تکلیف ہو یا نہ ہو تو کیا یہ گناہ کبیرہ میں شمار ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ احادیث میں گالی دینے اور دوسروں کو تکلیف اور ایذاء پہنچانے سے ممانعت وارد ہوئی ہے،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک کا مفہوم ہے کہ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔

اسی طرح ایک دوسری روایت کا مفہوم ہے کہ مسلمان لعن طعن کرنے والا اور فحش و بیہودہ گفتگو کرنے والا نہیں ہوتا۔

نیزرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک کا مفہوم ہے کہ کامل مسلمان وہ جس کے ہاتھ اور زبان کی ایذاء سے دوسرا محفوظ ہو، اس لئے ان دونوں باتوں سے احتراز لازم ہے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

15/جمادی الثانیہ1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب