| 78815 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
نیز گناہ کبیرہ کی نشاندہی کیسے کی جائے گی؟
کبیرہ گناہ سے مراد ہر ایسا گناہ ہے جس کی حرمت نص سے ثابت ہو،یاوہ گناہ جس پر قرآن وحدیث میں وعید آئی ہو،یاہر ایسا گناہ جس کے کرنے والے پر" اللہ تعالیٰ کے غضب اور ناراضگی کا ذکر ہو،یاجس گناہ کے کرنے والے پر حد جاری کرنے کا حکم ہو، جیسے: چوری، زنا، قذف (تہمت) وغیرہ ۔
اسی طرح کسی صغیرہ گناہ پر اصرار بھی اسے کبیرہ بنادیتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کبیرہ گناہ سے مراد ہر ایسا گناہ ہے جس کی حرمت نص سے ثابت ہو،یاوہ گناہ جس پر قرآن وحدیث میں وعید آئی ہو،یاہر ایسا گناہ جس کے کرنے والے پر" اللہ تعالیٰ کے غضب اور ناراضگی کا ذکر ہو،یاجس گناہ کے کرنے والے پر حد جاری کرنے کا حکم ہو، جیسے: چوری، زنا، قذف (تہمت) وغیرہ ۔
اسی طرح کسی صغیرہ گناہ پر اصرار بھی اسے کبیرہ بنادیتا ہے۔
حوالہ جات
"التفسير المنير للزحيلي "(5/ 40):
"والكبيرة كما قال ابن عباس: كل ذنب ختمه الله بنار أو غضب أو لعنة أو عذاب. وقال ابن مسعود: الكبائر: ما نهى الله عنه في هذه السورة إلى ثلاث وثلاثين آية، وتصديقه قوله تعالى: إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبائِرَ ما تُنْهَوْنَ عَنْهُ.
وقال طاوس: قيل لابن عباس كما تقدم: الكبائر سبع؟ قال: هي إلى السبعين أقرب. وقال سعيد بن جبير: قال رجل لابن عباس: الكبائر سبع؟
قال: هي إلى السبعمائة أقرب منها إلى السبع غير أنه لا كبيرة مع استغفار، ولا صغيرة مع إصرار".
"فتح القدير " (7/ 412):
"وقيل: الكبيرة ما فيه حد، وقيل :ما ثبتت حرمته بنص القرآن، وقيل :ما كان حراما لعينه.
ونقل عن خواهر زاده أنها ما كان حراما محضا مسمى في الشرع فاحشة كاللواطة أو لم يسم بها لكن شرع عليها عقوبة محضة بنص قاطع، إما في الدنيا بالحد كالسرقة والزنا وقتل النفس بغير حق، أو الوعيد بالنار في الآخرة كأكل مال اليتيم".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
15/جمادی الثانیہ1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


