| 90540 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
عابد بھائی نے والد صاحب کو پلاٹ کے پیسے دیے تھے ، اب کیا وہ اپنی رقم کا مطالبہ کرسکتے ہیں یا اس پلاٹ کا جو اس سے خریدا گیا؟نیز کیااب ان کا آج کی قیمت کے حساب سے پورے پلاٹ کی قیمت (تقریبا تین کروڑیا اس سے زیادہ ) کا مطالبہ صحیح ہے ؟ اگر بھائی نے قرض دیا ،یا بابا کی مدد کی تو اس صورت میں بھی ؟ اور کیا وہ سارے پلاٹ کے مالک ہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے بھائی نے پلاٹ کی خریداری میں رقم قرض کے طور پر دی تھی، تو اب وہ پلاٹ کے بجائے اسی قرض کے بقدرہی رقم کی واپسی کامطالبہ کر سکتے ہیں،لیکن اگر انہوں نے یہ رقم والد صاحب کو تعاون کے طور پر دی تھی (جیسا کہ سائل کی وضاحت کے مطابق یہی بات درست معلوم ہوتی ہے)،تویہ محض تبرع اور نیکی کا ایک معاملہ تھا،لہذا اب اس پر وہ پلاٹ کی ملکیت یا رقم کی واپسی کے لیے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کر سکتے ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 161):
فصل في القرض (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه، وهو أخصر من قوله: (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه، (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس ،(مثلي) خرج القيمي ،(لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة...(قوله خرج نحو وديعة وهبة) أي خرج وديعة وهبة ونحوهما، كعارية،وصدقة؛ لأنه يجب رد عين الوديعة والعارية، ولا يجب رد شيء في الهبة و الصدقة.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 226):
المتبرع لا يرجع بما تبرع به على غيره ،كما لو قضى دين غيره بغير أمره. اهـ.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
2/ذوالحجہ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


