03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملازمت کے معاہدے سے متعلق چند سؤالات کے جوابات
78791اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

جناب مفتی صاحب!بندہ ایک ادارےمیں کام کرتاہے،وہاں مجھےکافی مشکلات اورپریشانی کاسامناہے۔ وہاں میری مجبوری کی وجہ سےمجھےڈرایا،دہمکایااورظلم کیاجاتاہےاورانہی باتوں میں بندہ شرعی مسئلہ پوچھناچاہتا ہے۔سوالات آپ کےپیش نظرہیں۔

 ۱۔ادارےنےبندہ کی ڈیوٹی کاکل وقت سات گھنٹےطےکیاہے،صبح۸تا۱پانچ گھنٹےاورپھراس کےبعدگرمیوں اورسردیوں میں موسم کےلحاظ سےوقفہ کبھی ایک گھنٹہ تیس منٹ اورکبھی دوگھنٹےتیس منٹ وقفہ کےبعدمجھےاذان عصرتک،باقی۲گھنٹےکی ڈیوٹی دینی ہوتی ہے،اس طرح مجھےکل ۷ گھنٹے دینے ہیں،لیکن ادارہ مجھ سےکبھی وقفہ کےوقت میں اورکبھی دیگراوقات میں کام لیتاہےاوراس طرح میراڈیوٹی کاوقت آٹھ (۸)سےنو(۹) گھنٹےبنتاہے،لیکن اس کااضافی معاوضہ نہیں دیتے۔کیاشرعی طورپریہ طریقہ درست ہے؟

۲۔ادارےمیں اگرکوئی اورساتھی جس کاکام اورعہدہ ایک ہے،اگروہ۳سے۴ گھنٹےاضافی دیں توادارہ انہیں ان کی ایک دن کی تنخواہ کےبرابراضافی پیسےدیتاہے۔کیاشرعی طورپریہ طریقہ درست ہے؟

۳۔اگرمیں کبھی اضافی وقت دینےسےمنع کرتا ہوں،کسی مجبوری اورعذرکےباعث تو مجھےاس اندازمیں دہمکی دی جاتی ہےکہ دیکھ لیں،آپ کی جاب کامسئلہ ہے،دوسری پارٹ ٹائم جاب کےچکرمیں یہ ڈیوٹی نہ چلی جائے۔ کیااس طرح دہمکانایاکسی کی مجبوری کافائدہ اٹھانا شرعی طورپردرست ہے؟

 ۴۔بندہ نےگورنمٹ جاب کےلیےاپلائی کیاتھاتواس کاٹیسٹ دیناتھااوربندہ سچ بتاکرٹیسٹ دینے گیاتھا،لیکن اس کےکچھ دن یا۱یک ماہ بعدیہ کہاگیا کہ مدرسہ آپ کونکال رہا ہے،میں نےوجہ پوچھی تو بتایاکےمیں گورنمنٹ جاب کےلیےاپلائی کررہاہوں،اس لیےنکال رہےہیں توپھرمیں نےکہا کہ آپ اس بات کی یقین دہانی کروادیں کہ ادارہ کبھی نہیں نکالےگاتومیں بھی گورنمٹ جاب کےلیےاپلائی نہیں کرونگا،جواب میں مجھےیہ کہاگیا کہ ایساتو کچھ طےنہیں،پھرمیں نےجاب جانےکی ڈرکی وجہ سےاپلائی بھی نہیں کی،توکیااس طرح اچانک نکالنااورڈراناجائزہے؟

۵۔ادارےکاضابطہ ہےکہ استقلال کےبعداگرکسی کونوکری سےنکالیں گےتوایک ماہ کی اضافی تنخواہ دیں گےاوراب مجھےاچانک جاب سےنکالاگیاہے،جبکہ ادارےنےپہلےسےطےکیاہواتھا،لیکن مجھ سےکام لینےکےلیےاوراضافی وقت ڈراکرلینےکےلیےاس وقت نہیں بتایا،کیااس طرح دھوکادینااوراضافی تنخواہ دینےسےمنع کرنایہ کہہ کرکہ آپ کوپہلےوارنگ دی تھی،اب اضافی تنخواہ نہیں ملےگی،حالانکہ وہ وارنگ واپس لےلی گئی تھی۔کیااس طرح شرعاجائزہے؟

۶۔ادارےنےبندےکوبلاکسی عذرکےجواب دیاہے،حالانکہ میری کوئی غلطی نہیں تھی،بلکہ کبھی میری کوئی چیزکبھی کسی فائل میں تبدیل یاریکارڈکوگم کیاجاتاہے،جب بندےنےیہ بات ناظم سےذکرکی توانہوں نےکہاکہ میں یہ بات(بندہ ملازم)ادارےکےسربراسےنہ کروں،وہ خود(ناظم)کریں گےاورپھرناظم صاحب نےمجھےیہ کہاکہ انہوں نےادارےکےسربراہ سےبات کرلی ہے،جب کچھ دن بعدمیں نےخودادارےکےسربراہ سےپوچھاکہ میرےساتھ یہ معاملات ہورہےہیں،کیاآپ کوناظم صاحب نےبتائی؟توانہیں نےکہا کہ ناظم نےایسی بات نہیں کی ہےتومیں نےجواب میں یہ کہا کہ پھرمجھےیہ لگ رہاہےکہ ناظم بھی ملےہوئےہیں اورشایداپنابندہ لاناچاہتےہیں توپھرادارےکےسربراہ نےکہامجھےکہ میری سوچ صحیح نہیں ہے،آپ کےپاس۲دن کاوقت ہےاورمجھےنوکری سےنکال دیا۔ کیاایساکرنااوراپنےعہدےکااس طرح استعمال کرناشرعاصحیح ہے؟

 ۷۔ادارےمیں اضافی وقت دینےکی وجہ سےایک جاب چھوڑدی،کیونکہ وہاں تنخواہ میں کٹوتی اورطلبہ کی پڑھائی میں کمی ہورہی تھی اورصرف مجھےاضافی وقت کےپیسےنہیں دیتےہیں،باقی ملازمین کودیتے ہیں توکیااس جاب کےبدلےمیں ادارےکوتنخواہ دینی چاہیےیا کم ازکم اضافی وقت کی مدمیں پیسےدینےچاہیے؟

۸۔اگرکسی بندےکونوکری سےنکالناپہلےسےطےہواوربتایانہ جائےاورپہلےسارےکام کروائےجائیں اورپھراچانک سےنکالاجائےاوریہ کہاجائےآپ نوکری تلاش کرلیں ۳۰ دن کےاندراورادارے کے ضابطہ کےمطابق اوران کےکہنےکےمطابق کہ ایک ماہ کی اضافی تنخواہ بھی دیں گےاورپھر مجھےنوکری ملےتوپھر یہ کہیں کہ آپ کوایک ماہ کی اضافی تنخواہ تودورکی بات جس ماہ میں نےکام کیا،اس ماہ کی بھی تنخواہ رکھوانی پڑےگی،میں نےوجہ پوچھی تو کہا آپ اچانک جارہےرہیں تومیں نےکہا کہ ادارےنےکہاہے کہ 30 دن میں نوکری تلاش کریں،اب نوکری مل رہی ہےتومیری تنخواہ نہیں دےرہے،نہ اضافی،نہ اس ماہ کی۔کیااس طرح شرعاجائزہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(۱)اس بارےمیں درج ذیل تفصیل ہے:

۱۔اگر ادارے کی طرف سےملازمت کےمعاہدے میں اتفاقی طور پر کبھی کبھاربلااجرت اضافی معمولی وقت لینے کا معاہدہ نہ ہوا ہو تو ایسی صورت میں ملازم اضافی وقت میں کام کرنے کا پابند نہیں،لیکن اگر وہ ایسی صورت میں اضافی وقت دیتا ہے تو اجرت کے لازم ہونے میں یہ تفصیل ہےکہ اگر وہ اضافی وقت ادارے کے مطالبہ کے بغیر دیتا ہے تو اس کی اجرت کا وہ مستحق نہیں،البتہ اگر ملازم وہ اضافی وقت ادارے کے مطالبہ پر دیتا ہے اورملازم کا وہ وقت پہلےسے کسی دوسری جگہ بامعاوضہ کام کرنےکےلیےمخصوص ہویا اس قدر اضافی وقت لینے پر ملازم کو اضافی اجرت دینے کا عرف ہو تو ایسی صورت میں اضافی وقت میں کام لینے پر ادارے پر عرف یا معاہدے کے مطابق اس وقت کی اجرت بھی لازم ہوگی۔

۲۔اگرملازمت کےمعاہدہ میں ہنگامی یااتفاقی طورپرکبھی کبھارمعمولی اضافی وقت بلااجرت لینے کامعاہدہ ہواہوتوایسی صورت میں بھی ملازم کو اضافی وقت کے اجرت کے مطالبہ کا حق نہیں۔

۳۔اگراضافی وقت دینےپر دوگنی یامعمول کی اجرت دینے کامعاہدہ ہوا ہوتوایسی صورت میں ملازم معاہدہ کے مطابق اضافی وقت کی اضافی اجرت کا مستحق ہوگا،اورمعاہدے میں اجرت کی تحدید نہ ہو نے کی صورت میں عرف کے مطابق اس کام کی اجرت متعین ہوگی۔

الفتاوى الهندية (4/ 427):

مقصرة يعمل فيها القصارون ولرجل فيها أحجار يؤاجرها منهم فعمل بها قصار ولم يشارط صاحب الأحجار بشيء فإن لم يكن معروفا عندهم أن من شاء عمل عليها وأدى الأجر فلا أجر عليه إذا عمل بلا إذن رب الأحجار ولو كان معروفا عندهم أن من شاء عمل عليها وأدى الأجر فعليه الأجر ثم إن كانت لها أجرة معروفة يجب ذلك وإلا فأجر المثل. كذا في الكبرى.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 436):

وفي «الفتاوى» أيضاً: مقصرة يعمل فيها القصارون ولرجل فيها أحجار يؤاجرها منهم جاء قصار وعمل فيها ولم يشارط صاحب الأحجار بشيء، فإن لم يكن المعروف عندهم أن من شاغل عليها وأدى الأجر فلا أجر عليه إذا  عمل بغير إذن رب الأحجار؛ لأنه لم يوجد العقد لا صریحاً ولا دلالة، وإن كان المعروف عندهم أن من شاء عمل عليها وأدى الأجر فعليه الأجر؛ لأن المعروف كالمشروط، ثم إن كان لهذا الحجر أجرة معروفة فيما بينهم يجب ذلك، وإلا يجب أجر المثل.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 638):

وذكر في «النوازل» : أن على قول أبي حنيفة القصار متبرع، ولا أجر له وعلى قول محمد: إن اتخذ دكاناً وانتصب لعمل القصارة بالأجر، يجب الأجر وما لا فلا. وعلى قول أبي يوسف هو متبرع، إلا أن يكون خليط، وهو أن يكون يدفع إليه ثيابه للقصارة بالأجر عادة. وفي باب الخلع من شرح «الكافي» إذا قال للحمال: احمل هذا إلى بيتي، وقال للخياط: خط إن كان الخياط معروفاً أنه يخيط بأجر، والحمال كذلك يجب الأجر وما لا فلا.

(۲)اضافی وقت دینے پر باقاعدہ کام کرنے کی صورت میں کام کی اہمیت ونوعیت کے پیش نظر ایک یوم کی اجرت کا اگر ادارے کی طرف سےعمومی ضابطہ ہو یعنی کسی خاص شخص کی رعایت ولحاظ ملحوظ نہ ہو تو ایسا کرنا جائز ہے،ورنہ( جہاں مخصوص افراد کی رعایت ملحوظ ہو یا یا کام کے بغیر اضافی وقت کے عوض)پورے دن کی اجرت دینے کامعاملہ جائز نہیں،البتہ عرف کے مطابق اضافی اجرت کا معاملہ جائز ہے۔(احسن الفتاوی:ج۷،ص۳۰۳،عثمانی:۳،ص۳۹۱)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 69):

(والثاني)وهوالأجير (الخاص)ويسمى أجيروحد(وهومن يعمل لواحدعملامؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا

وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 69):

(قوله وإن لم يعمل) أي إذا تمكن من العمل، فلو سلم نفسه ولم يتمكن منه لعذر كمطر ونحوه لا أجر له كما في المعراج عن الذخيرة.

  (۳)جب معاہدے میں اتفاقااضافی وقت میں کام لینا شامل نہ ہو تو ایسی صورت میں یہ دھمکی آمیزطریقہ درست نہیں۔

 (۴)مدرسہ سے معاہدہ عرف عام میں سالانہ بنیادوں پر ہوتا ہے،لہذادرمیان سال میں بلا عذر کسی فریق کومعاہدہ فسخ کرنےکااختیارنہیں،لہذاادارے کی انتظامیہ کےلیےکسی ضابطہ کی خلاف ورزی کے بغیر،ملازمت کے معاہدے کو شخصی آزادی کے خلاف اس طرح استعمال کرنا شرعا جائز نہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 80):

(وبعذر) عطف على بخيار شرط (لزوم ضرر لم يستحق بالعقد إن بقي) العقد كما في سكون ضرس استؤجر لقلعه وموت عرس أو اختلاعها استؤجر) طباخ (لطبخ وليمتها)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 372):

مطلب فيمن لم يدرس لعدم وجود الطلبة

وفي الحموي سئل المصنف عمن لم يدرس لعدم وجود الطلبة، فهل يستحق المعلوم؟ أجاب: إن فرغ نفسه للتدريس بأن حضر المدرسة المعينة لتدريسه استحق المعلوم، لا مكان التدريس لغير الطلبة المشروطين قال في شرح المنظومة: المقصود من المدرس يقوم بغير الطلبة بخلاف الطالب، فإن المقصود لا يقوم بغيره اهـ وسيأتي قبيل الفروع أنه لو درس في غيرها لتعذره فيها ينبغي أن يستحق العلوفة، وفي فتاوى الحانوتي يستحق المعلوم عند قيام المانع من العمل ولم يكن بتقصيره سواء كان ناظرا أو غيره كالجابي.

 (۵)اس سؤال کا جواب معاہدے کی تفصیل پر موقوف ہےکہ اس میں آپ کو مستقل کرنا شامل معاہدہ تھا یا نہیں؟ اگر تھا تو یہ طرز عمل جائز نہیں،جبکہ  مذکورہ استحقاق کے کسی ضابطہ کی خلاف ورزی بھی نہ پائی گئی ہو ورنہ آپ اضافی تنخواہ کے مستحق نہیں۔

(۶)جب تک کوئی شرعی معتبر عذر نہ پایا جائے جو ملازمت کو  باقی رکھنے کے اغراض و مقاصد کے منافی ہو تو اس وقت یک طرفہ معاہدے کو ختم کرنا جائز نہیں۔

(۷)اگر آپ کا وقت پہلے سے خدمات میں مصروف تھا اور ادارے کی مطالبہ پر آپ نے  اضافی وقت دیا ہو تو آپ اضافی وقت کی اجرت کےمستحق ہیں، ورنہ نہیں۔

(۸)معاہدےکی خلاف ورزی کسی کےلیےجائز نہیں،نہ آپ کےلیے،نہ ادارےکےلیے،لیکن ادارے کی یہ بات صحیح نہیں کہ آپ اس مہینہ کی تنخواہ کے بھی مستحق نہیں، اگرچہ آپ کا خلاف معاہدہ  جانا گناہ ہوگا ،لیکن اس کی وجہ سے ادارے کا ضمان کے طور پر ایک مہینہ کی تنخواہ روکنا جائز نہیں۔(احسن الفتاوی:ج۷،ص۲۹۶)

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۵جمادی الثانیۃ۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب