| 78920 | جائز و ناجائزامور کا بیان | لباس اور زیب و زینت کے مسائل |
سوال
کیا ایسی گھڑی پہننا جائز ہے جس پر سونے کا پانی چڑھا ہو یا اس کا کیس سونے کا ہو ؟نیز یہ بھی رہنمائی فرما دیں کہ گھڑی کس ہاتھ میں پہننی چاہیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس گھڑی پر صرف سونے کا پانی چڑھایا گیا ہو،چونکہ وہ خالص سونے کے حکم میں نہیں،اس لیے اس کا استعمال مرد اور عورت دونوں کے لیے جائز ہے ۔اورسونے کے کیس والی گھڑی استعمال کرنا عورت کے لیے جائزہے اور مرد کے لیے جائز نہیں۔
گھڑی کو دائیں بائیں کسی بھی ہاتھ میں پہنا جا سکتا ہے۔اس جہت سے کہ ہر اچھا کام سیدھے ہاتھ سے ہو،کا تقاضا ہے سیدھے ہاتھ میں پہنی جائے۔دوسری طرف کیونکہ سارے اچھے کام سیدھے ہاتھ سے کرتے وقت گھڑی دیکھنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے،لہذا سہولت بائیں ہاتھ میں پہننے میں ہو گی۔
حوالہ جات
روی الإمام البخاری رحمہ اللہ عن عائشة رضی اللہ عنھا قالت:كان النبي صلى اللہ عليه وسلم يحب التيمن ما استطاع في شأنه كله في طهوره وترجله وتنعله.( صحيح البخاري:رقم الحدیث 416)
روی الإمام أبو داود رحمہ اللہ عن علي بن أبي طالب رضی اللہ عنہ يقول: إن نبي اللہ صلى اللہ عليه وسلم أخذ حريرافجعله في يمينه وأخذ ذهبا فجعله في شمالہ، ثم قال: إن هذين حرام على ذكور أمتي.(سنن أبي داود:رقم الحدیث،4057)
قال جمع من العلماء رحمھم اللہ: وأما التمويه الذي لا يخلص، فلا بأس به بالإجماع.(الفتاوی الھندیۃ:5/334)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: ولا يتحلى الرجل بذهب وفضةمطلقا ،إلا بخاتم ومنطقة وجلية سيف منهاأي الفضة ،إذا لم يرد به التزين.(الدر المختار مع رد المحتار:6/358)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: وأما التمويه الذي لا يخلص ،فلا بأس به بالإجماع :لأنه مستهلك ،فلا عبرة ببقائه لونا.(رد المحتار:6/344)
محمد عمر الیاس
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
15جمادی الثانی،1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمر بن محمد الیاس | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


