| 78926 | متفرق مسائل | متفرق مسائل |
سوال
اگر غسل کے بعد معلوم ہوجائے کہ جسم کی فلاں جگہ خشک رہ گئی ہے تو غسل دوبارہ کرنا پڑے گا یا صرف اس جگہ کو دھو لیا جائے گا جو خشک رہ گئی تھی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر غسل کے بعد معلوم ہو کہ فلاں جگہ خشک رہ گئی ہے تو صرف اس حصہ کا دھونا کافی ہے جو خشک رہ گیا تھا ، پورا غسل دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
حوالہ جات
إذا توضأ أو اغتسل وبقی علی یدہ لمعة فاخذ البلل منھا فی الوضوء أو من أی عضو کان فی الغسل،وغسل اللمعة یجوز. )البحر الرائق:1/93)
جنب اغتسل وبقی لمعۃ وفنی ماءہ یتیمم لبقاء الجنابۃ فإن أحدث تیمم للحدث فان وجد ماء یکفیھما صرفہ إلیھما. (الفتاوى الهندية :1/29)
(قولہ ولمعۃ و جنابۃ) أي لواغتسل وبقیت علی بدنہ لمعۃ لم یصبھا الماء فتیمم لھا . (ردالمحتار:1/256)
محمدادریس
دارالافتاء،جامعۃ الرشید، کرچی
18/جماد ی الآخرہ /1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


