03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تفویضِ طلاق بمقابلہ وکالت اور ترجمہ کروانے کا شرعی حکم
91606طلاق کے احکامطلاق کا وکیل بنانے کا بیان

سوال

سوال نمبر 5: اصولِ وکالتِ حنفی کی رو سے مؤکل (شوہر) کو بائی پاس کرنے کا حکم: فقہ اسلامی میں تفویضِ طلاق دراصل ”وکالت“ (Agency) کے اصولوں پر مبنی ہوتی ہے، جہاں بیوی شوہر کی طرف سے وکیل ہوتی ہے۔ اصولِ حنفی یہ ہے کہ وکیل اپنے مؤکل (Principal) کی مراد اور نیت کے خلاف تصرف نہیں کر سکتا۔ مسمات نے پیغام ملنے پر عبارت کی شرعی قیود کو شوہر (صاحبِ کلام) سے پوچھ کر وضاحت کے لیے رجوع کرنے کے بجائے یکطرفہ طور پر ایک تیسرے شخص (عالم) سے ترجمہ کروایا اور شوہر کو بائی پاس کیا، کیا صاحبِ کلام کو چھوڑ کر کسی تیسرے شخص کے فہم پر عمل کرنا شوہر کی اصل مراد (Intent) کو مسخ کرنے کے مترادف نہیں ہے؟ کیا فہمِ کلام کے بغیر ایسی عجلت میں کیا گیا اقدام شرعاً باطل تصور ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(5)واضح رہے کہ فقہ حنفی میں تفویضِ طلاق اور وکالت کے احکام اور نوعیت یکسر مختلف ہیں۔ تفویض کی صورت میں عورت (بیوی) شوہر کی طرف سے طلاق واقع کرنے میں اس کی کوئی وکیل (Agent) نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنے نفس کے لیے کام کر رہی ہوتی ہے (عاملة لنفسها) اور شوہر اسے اس حق کا مالک (تملیک) بنا دیتا ہے۔

چونکہ معاملہ وکالت کا نہیں، اس لیے عورت پر شوہر کی باطنی نیت یا مراد کی پیروی لازم نہیں ہے، بلکہ وہ قاضی کی طرح صرف ظاہری اور صریح الفاظ کی پابند ہے۔ لہٰذا، مسمات کا شوہر کے بجائے کسی عالمِ دین سے ان صریح الفاظ کا ترجمہ یا شرعی مفہوم سمجھنا اور دی گئی مہلت کے اندر اپنا حقِ تفویض استعمال کر لینا شرعاً قطعی درست ہے۔ اسے ”شوہر کی مراد کو مسخ کرنا“ یا ”عجلت کا اقدام“ قرار دے کر اس کے عمل کو باطل (Void) تصور نہیں کیا جا سکتا۔

حوالہ جات

«شرح الزيادات - قاضي خان» (2/ 472):

«لأن هذا تفويض، وتمليك من المرأة، وليس بتوكيل؛ لأن الوكيل من يعمل لغيره، وهي عاملة لنفسها، والتمليك لا يقبل الرجوع»

«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (4/ 78):

«لا يصدق قضاء، ويصدق ديانة لأن الله تعالى عالم بما في سره لكن لا يسع المرأة أن تقيم معه لأنها كالقاضي لا تعرف منه إلا الظاهر كذا في المبسوط»

محمدسعید خان آفریدی

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

12/صفر/1448ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد سعید خان آفریدی بن معین خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب