03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
الفاظِ شوہر کی لغوی و شرعی تشریح اور مسئلہ نشوز
91607طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

سوال نمبر 6: الفاظِ شوہر کی لغوی و شرعی تشریح (مسئلہ نشوز): شوہر نے پیغام میں لکھا: "since you left me for your reasons which YOU deemed for right/correct" (ترجمہ: چونکہ تم اپنی وجوہات کی بنا پر مجھے چھوڑ کر گئی ہو جنہیں تم حق یا درست سمجھتی ہو)۔ کیا شوہر کا یہ جملہ بیوی کے گھر چھوڑنے کے فعل کی شرعی توثیق (Admission) کہلائے گا یا شوہر نے واضح طور پر اس یکطرفہ خروج کی ذمہ داری اور اس کے حق یا درست (Right/Correct) ہونے کا پورا ملبہ خالصتاً بیوی کی اپنی ذاتی سوچ اور زعم (YOU) پر ڈالی ہے؟ اگر بیوی کے پاس اپنے اس خروج (گھر چھوڑنے) کا کوئی شرعی ثبوت نہ ہو، تو کیا محض شوہر کے اس جملے کی بنیاد پر اس کا شرعی ”نشوز“ (نافرمانی) ختم ہو سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(6)فقہ حنفی کے اصولوں کے مطابق، بغیر کسی ثابت شدہ شرعی عذر کے شوہر کا گھر چھوڑنے والی عورت شرعاً "ناشزہ" (نافرمان) ہے۔ محض شوہر کے اس جملے کی بنیاد پر کہ "تم اسے حق سمجھتی ہو"، عورت کے پاس شرعی ثبوت نہ ہونے کی صورت میں اس کا "نشوز" ختم نہیں ہو سکتا۔

 

حوالہ جات

  «البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (4/ 82):

«نشزت المرأة من زوجها نشوزا من بابي قعد وضرب عصت زوجها وامتنعت عليه»

«النهاية في شرح الهداية - السغناقي» (9/ 7 بترقيم الشاملة آليا):

«يقال نشزت المرأة على زوجها، فهي ناشزة، إذا استعصت عليه وأبغضته»

«النهاية في شرح الهداية - السغناقي» (9/ 7 بترقيم الشاملة آليا):

«النشوز لغة: نشزت المرأة استعصت على بعلها وأبغضته، ونشز بعلها عليها ضربها وجفاها، ومنه قوله تعالى: {وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا}. ينظر: (مختار الصحاح ص: 311).

وشرعا: نشوز المرأة هو معصيتها زوجها فيما يجب له عليها من حقوق النكاح»

محمدسعید خان آفریدی

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

12/صفر/1448ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد سعید خان آفریدی بن معین خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب