| 79052 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک مسئلہ یہ ہے کہ میرے بھائی صابر کی شادی 2008ء میں ابو کی بھتیجی کے ساتھ طے ہوئی تھی۔ اس کے لیے ابو نے زیور وغیرہ بنوائے تھےلیکن کسی وجہ سے یہ شادی نہ ہوسکی۔پھر 2015ء میں صابر کی شادی غیروں میں انتہائی سادگی کے ساتھ ہوئی اور صابر نے وہ زیور بھابھی کو نہیں ڈالابلکہ اپنی چھوٹی غیر شادی شدہ بہن کے لیے رکھ دیا لیکن بہن کی شادی ہوئی نہیں اور نہ وہ کرنا چاہتی ہے۔اب پوچھنا یہ ہے کہ اس زیور کا کیا ہوگا۔اس کی تقسیم شرعا کیسی ہوگی۔
وضاحت:سائل کی زبانی وضاحت سے معلوم ہوا کہ زیور بنانے کے بعد زیور والد کے پاس ہی تھا باقاعدہ صابر کے حوالہ نہیں کیا تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
وہ زیور آپ کے والد کی ملکیّت تھی لہٰذا والد کی میراث میں تقسیم ہوگا اور وہ تمام ورثاء اس میں شریک ہونگے جو والد کے متروکہ گھر میں شریک تھے۔
حوالہ جات
{لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا (7)} [النساء: 7]
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11]
عنایت اللہ عثمانی
دارالافتا ءجامعۃ الرشید، کراچی
25 جمادی الثانیۃ 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


